رسائی کے لنکس

عراقی دارالحکومت بغداد میں اتوار کی صبح ہوئے دوبم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد 151 ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے بھی زیادہ بتائی جارہی ہے۔

بم دھماکوں کو سال رواں کا سب سے خطرناک حملہ قرار دیا جارہا ہے۔ دھماکے بغداد کے کرادہ اور شعب نامی علاقوں میں ہوئے ۔ ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ زخمیوں کی تشویشناک حالت بتائی جارہی ہے ۔

کرادہ میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند گروپ داعش نے قبول کی ہے ۔ حملے کا مقصد شیعہ برادری کو نشانہ بنانا تھا۔

دوسری جانب عراقی وزیر دفاع خالد العبیدی نے اتوار کو عراق میں تعینات امریکہ سفیر اسٹرٹ جونز سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں دونوں ممالک کی جانب سے داعش کے خلاف جاری کارروائیوں کومزید موثر بنانے پر تبادلہ خیال ہوا۔

عراق کے وزیراعظم حیدر العابدی نے جائے وقوع کا معائنہ کیا ۔

حملے ایسے وقت میں کئے گئے ہیں جب ایک ہفتے قبل عراقی فوج نے فلوجہ میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں شہر بدر کردیا تھا۔

ایک ہفتے کے دوران داعش کی جانب سے دہشت گردی کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے ۔ منگل کو ترکی کے ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا جس میں 40 افراد ہلاک ہوئے جبکہ دوسرا واقعہ بنگلادیشی دارالحکومت ڈھاکہ کے ایک ریسٹورینٹ پر حملے کی صورت میں ہوا جس میں 20سے زائد لوگ مارے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG