رسائی کے لنکس

داعش کی تحویل میں کام کرنے والے خبر رساں ادارے، 'اعماق' نے خبر دی ہے کہ یہ حملے دولت اسلامیہ کے گروپ نے کیے

اہل کاروں نے بتایا ہے کہ بارود بھری ایمبولنس گاڑیوں میں سوار خودکش حملہ آوروں نے اتوار کے روز عراق کے دو شہروں میں ایک پولیس چوکی اور شیعہ زائرین کی پارک کی ہوئی ایک موٹر گاڑی کو دھماکوں کا نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوئے۔

یہ دو حملے تکریت اور سامرا میں ہوئے۔ بظاہرہ یہ حملے سخت گیر سنی شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے، جو موصل کو واگزار کرانے کے لیے تین ہفتوں سے جاری کارروائی کے دوران لوگوں کو منقسم کرنے کی غرض سے وہ کرتے رہے ہیں، جو کرکوک شہر، دارالحکومت بغداد اور مغربی علاقے میں واقع ایک ریگستانی قصبے پر کرُدوں کے کنٹرول کے مخالف ہیں۔

داعش کی تحویل میں کام کرنے والے خبر رساں ادارے، 'اعماق' نے خبر دی ہے کہ یہ حملے دولت اسلامیہ کے گروپ نے کیے۔

تکریت میں، ایک حملہ آور نے بارودی مواد سے بھری ایمبولنس کو بھک سے اڑا دیا۔ یہ دھماکہ صبح کے مصروف اوقات کے دوران شہر کے جنوبی داخلی حصے میں ہوا ، جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ بات پولیس اور اسپتال ذرائع نے بتائی ہے۔

دوسرے حملہ آور نے تکریت کے جنوب میں سمارہ کی العسکری مسجد کے پاس کھڑی گاڑی پر کیا، جس میں شیعہ زائرین سوار ہو کر اسلام کے ایک متبرک مزار پر حاضری دینے کے لیے آئے تھے۔

مقامی اہل کاروں کے مطابق، بم پھٹنے سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو ایرانی زائرین بھی شامل تھے۔ مشترکہ فوجی اور پولیس دستے پر مشتمل ایک مقامی کارروائی کی کمان نے بتایا ہے کہ سمارا میں بھی ایک ایمبولنس کو ہی استعمال کیا گیا۔

مزید حملوں کے امکان کے خوف کے باعث، دونوں شہروں میں حکام نے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

اعماق نے بتایا ہے کہ دونوں خودکش حملے سمارا میں ہوئے، پہلے میں خود کش حملہ آور نے کار میں نصب بم دھماکہ کیا، جب کہ دوسرے میں وہ لوگ جو پہلے دھماکے میں محفوظ رہے، گروپ میں موجود ایک اور حملہ آور نے بارود بھری جیکٹ کو بھک سے اڑا دیا۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ تکریت کا حملہ کار میں سوار ایک خود کش حملہ آور کی کارستانی تھی۔

XS
SM
MD
LG