رسائی کے لنکس

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 10 ستمبر کو خودکشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا گیا۔ عالمی ادارہٴ صحت کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک انسان خودکشی کرکے اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے

کراچی: خودکشی ایک ایسا سنگین عمل ہے جس میں انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ پر تشدد کرکے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ احساس محرومی، مایوسی اور ڈپریشن کی بڑھتی ہوئی ذہنی کیفیت انسان کو خودکشی جیسے منفی رجحان کی جانب مائل کرتی ہے۔ دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خودکشی کے کئی واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

خودکشی تشدد کی ایک انتہائی شکل ہے، جسے انسان خود اپنے اوپر طاری کرتا ہے اور اپنے ہی ہاتھ سے اپنی جان لیتا ہے۔

ماہر نفسیات نوشین شہزاد کے مطابق، ’میڈیا پر چلنے والی فلمیں اور پروگرام خودکشی جیسے منفی رجحان کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ آجکل بننے والے ٹی وی پروگرامز انسانی نفسیات پر پڑنے والے اس کے منفی اثرات کو مدنظر رکھ کر ترتیب نہین دیا جا رہا، جس کیلئے کوڈ آف کنڈیکٹ یا کوئی طریقہ بنانا وقت کی اہم ضرورت تصور کیا جا رہا ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ میڈیا چینلز کے پروگرام اور کیبل پر چلنے والی اکثر فلموں میں'مارو یا مرجاؤ' کے مناظر پیش کئےجاتے ہیں، جس سے انسانی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جسے روکنا ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اکثر خودکشی کرنے والے افراد میں زیادہ تر نوجوان طبقہ کے افراد ہوتے ہیں، جن میں کم عمری کے باعث شدت پر مبنی جذبات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس عمر میں صحیح یا غلط، کئی ایک نوجوان انتہائی عمل کر گزرتے ہیں۔

ان کے بقول، ’اگر کوئی شخص خودکشی کا مذاق میں بھی کہتا ہے کہ میں خودکشی کر بیٹھوں گا، تو اس کے خودکشی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی شدت پسندی ایسے فعل کا ارتکاب کرنے میں سبب بن سکتی ہے۔‘

دنیا بھر کی طرح ،پاکستان میں بھی خودکشی کے واقعات ہوتے ہیں۔ شہر کراچی میں گزشتہ ہفتے پیش آنےوالا ایک واقعہ جہاں پسند کی شادی ممکن نا ہونے پر نوجوان طالبعلم نے ساتھی طالبہ کو قتل کرکے اپنی جان بھی لے لی۔

دو طالبعلموں کی ہلاکت کے اس دلخراش واقعے پر سوشل میڈیا پر تبصروں اور بحث کئی روز جاری رہی، وہیں اس واقعے نے معاشرے کے منفی پہلو سامنے آئے۔

پولیس کے مطابق، اس واقعے کے بعد، دونوں کی لاشوں سے ملنےوالے خطوط اس واقعے کا ٹھوس ثبوت ہیں، جسمیں دونوں کی موت کی وجہ پسند کی شادی کا نا ہونا تحریر تھا، جس ہر انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 10 ستمبر کو خودکشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا گیا۔ عالمی ادارہٴ صحت کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک انسان خودکشی کرکے اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے۔

معاشرے میں خودکشی جیسے منفی رجحان کو ختم نہیں تو کم کرنے کیلئے عام سطح پر آگاہی پیدا کرنے اور منفی سوچ رکھنے والے افراد میں مثبت سوچ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG