رسائی کے لنکس

افغان عہدیداروں کے مطابق پیر کو یہ دھماکا شہر کے مصروف مغربی علاقے میں ایک پولیس اسٹیشن کے باہر ہوا اور ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک خود کش بم دھماکے میں حکام کے مطابق کم از کم 10 افراد ہلاک جب کہ 20 زخمی ہو گئے ہیں۔

افغان عہدیداروں کے مطابق پیر کو یہ دھماکا شہر کے مصروف مغربی علاقے میں ایک پولیس اسٹیشن کے باہر ہوا اور ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ان میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری طالبان عسکریت پسندوں کی طرف سے قبول کی گئی۔

گزشتہ ماہ ایک خودکش کار بم حملے میں افغانستان کے نجی ٹیلی ویژن چینل ’طلوع‘ کے سات صحافی ہلاک ہو گئے تھے، جس کی ملک بھر اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے شدید مذمت کی گئی تھی۔

افغانستان میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر نا صرف اندرون ملک بلکہ افغانستان کے اتحادی ممالک بشمول امریکہ اور پاکستان کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

کابل میں پیر کو خودکش حملہ ایسے وقت ہوا جب افغانستان میں قیام امن اور طالبان سے مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے چار فریقی اجلاس کا تیسرا دور رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے جا رہا ہے۔

گزشتہ ماہ اس سلسلے میں پاکستان، افغانستان، امریکہ اور چین کے نمائندوں کا پہلا چار فریقی اجلاس اسلام آباد میں ہوا تھا جب کہ دوسرا اجلاس 18 جنوری کو کابل میں ہوا۔

چار ملکوں کے نمائندے کا تیسرا اجلاس اب چھ فروری کو اسلام آباد میں طے ہے۔

2014 ء کے اواخر میں افغانستان سے بین الاقوامی لڑاکا افواج کے انخلاء کے بعد طالبان کے حملوں میں تیزی آئی اور اس دوران اُنھوں نے قندوز سمیت کئی اہم علاقوں میں حملے کر کے کچھ وقت کے لیے اُن علاقوں کا کنٹرول بھی سنھبال لیا تھا۔

توقع کی جا رہی ہے کہ چار ملکوں کی کوششوں سے اگر افغانستان میں مصالحتی عمل بحال ہوتا ہے تو اس سے تشدد کے واقعات میں کمی ممکن ہو گی۔

XS
SM
MD
LG