رسائی کے لنکس

یہ بات بیرسٹر سلطان محمود نے کہی ہے۔ بقول اُن کے، ’لندن میں، کامیاب ملین مارچ نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے اجاگر کیا اور بھارتی قیادت پریشانی کا شکار ہوئی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا وزیر خارجہ برطانیہ بھیجنا پڑا‘

اکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود نے 25 اکتوبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے سامنے ’ملین مارچ‘ کا اعلان کیا ہے، جس میں شرکت کے لئے وہ سکھوں اور دیگر کمیونٹی سے بھی رابطہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

واشنگٹن میں گزشتہ شب تحریک انصاف کے جلسے اور بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب میں بیرسٹر سلطان محمود کا کہنا تھا کہ مسئلہٴکشمیر جنوبی ایشیا میں ’فلش پوائنٹ‘ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ہم نے امریکی حکام کو بھی اس بات کا احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان اس دیرینہ مسئلے کا بات چیت کے ذریعے حل تلاش نہ کیا گیا تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں‘۔

بیرسٹر سلطان محمود کا کہنا تھا کہ لندن میں، بقول اُن کے، ’کامیاب ملین مارچ‘ نے مسئلہٴ کشمیر کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے اجاگر کیا اور بھارتی قیادت پریشانی کا شکار ہوئی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا وزیر خارجہ برطانیہ بھیجنا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے ہونے والے ملین مارچ میں شرکت کے لئے کشمیریوں اور پاکستانیوں کے علاوہ سکھوں اور بھارتی حکومت کی ستائی ہوئی دیگر قوموں سے بھی رابطہ کیا جار رہا ہے‘۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’کشمیریوں نے آزادی کے لئے مسلح جدوجہد ترک کرکے جمہوری راہ اختیار کی ہے’۔

تاہم، اُنھوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ ’وہ کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے میں کردار ادا کرے، تاکہ کشمیری نوجوان کا جمہوری جدوجہد پر یقین باقی رہے اور وہ دوبارہ مسلح جدوجہد کی جانب نہ لوٹیں‘۔

XS
SM
MD
LG