رسائی کے لنکس

ورلڈ کپ اور کرکٹ کا بخار ختم۔۔۔ لوڈ شیڈنگ کا عذاب شروع


ورلڈ کپ اور کرکٹ کا بخار ختم۔۔۔ لوڈ شیڈنگ کا عذاب شروع

ورلڈ کپ اور کرکٹ کا بخار ختم۔۔۔ لوڈ شیڈنگ کا عذاب شروع

لیجئے!! پاکستان سیمی فائنل کیا ہارا، ملک سے ورلڈ کپ اور کرکٹ کا موسم ہی چلا گیا۔ اب پھر وہی گرمی کا موسم اور لوڈ شیڈنگ کا عذاب ہے ۔ مارچ کی ابتدائی گرمی میں کراچی میں نو نو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے تو اللہ جانے مئی اور جون کی چلچلاتی دوپہریں کیسے کٹیں گی۔ کل ہی ایک ستر، اسی برس کی خاتون کہہ رہی تھیں، "بجلی والے معاشرے کو ترقی کے تیز ترین دور سے دھکا دے کر پہلے والے زمانے میں پھینکنے کے در پر ہیں"۔

ایک لمحے کے لئے سوچئے ۔۔ اگرواقعی گزرا زمانہ واپس آجائے تو کیسا لگے گا؟؟ موسم گرما کی رعنائیاں لوٹ آئیں گی، ختم ہوتی روایات پھر سے زندہ ہو جائینگی اور۔۔۔ اور ۔۔۔ ٹھہریئے ہم باری باری یاد دلاتے ہیں کہ پچھلے زمانوں کے موسم گرما کی کیا دلکشی اور کیا بہاریں ہوا کرتی تھیں۔۔ جو اب تقریباً ناپید ہوگئی ہیں۔

کتنی ہی گرمی پڑے لوگوں کی عادت تھی کھلے آسمان کے نیچے اہل خانہ کے ساتھ چھت کے اوپر سوتے تھے۔ شام کا سورج ڈھلا نہیں کہ چھت پر ٹھنڈے پانی کا چھڑکاوٴ شروع ہوجاتا تھا۔ پھر مغرب کے بعد چار پائیاں لگ جاتی تھیں جن پر سفید چادریں اور سفید تکئے رکھے ہوا کرتے تھے۔

رات کا کھانا بھی نیم اندھیرے میں چھت پر ہی کھایا جاتا تھا۔ پھر پلنگ سے جڑے پلنگ یا چارپائیوں سے لگی چارپائیوں پر سب لیٹ کر دیر تک آسمان کے فرش پر بچھے تاروں کو دیکھا کرتے تھے۔ ایسے میں باتیں کرتے کرتے کبھی کبھار گھنٹے گزر جایا کرتے تھے۔ ایسے میں پڑوسی کے صحن سے اڑتی رات کی رانی یا چنبیلی کی خوشبو ماحول کو معطر کئے رہتی تھی۔

پھر رات کو آنکھ کھلتی تو چودھویں کا پورا چاند کبھی بادلوں سے اٹھکیلیاں کرتا نظر آتا تو کبھی "آنگن والے نیم میں اٹکا" محسوس ہوتا۔ سر سر کرتی ہوا کا شور بھی کسی مدھر تان سے کم نہ لگتا۔ کبھی ہلکی پھلکی بوندا باندی ہوتی تو بھی بستر چھوڑ کر نیچے جانے کا دل نہ چاہتا اور اس وقت تک چھت پر ہی پڑے رہتے جب تک بستر پوری طرح گیلا نہ ہوجاتا۔

دیہات میں بھی گرمی کی اپنی ہی رعنائیاں تھیں۔ موسم گرما گندم کی کٹائی کا موسم ہے جس میں میلے لگتے تھے۔ کاشتکار درانتی سے گندم کاٹتے تھے۔ گندم کی کٹائی کے موسم میں شہروں سے باربرداری کرنے والا سارا مزدور طبقہ دیہاتوں میں چلا جاتا تھا جہاں وہ گندم کی کٹائی کر کے سال بھر کی گندم اکٹھی کر لیتا تھا۔

گرمیوں کی دوپہر نیم، برگد، دھریک اور پیپل تلے گزارنے کامزا ہی کچھ اور تھا۔ ان درختوں کے نیچے کبھی قیلولہ کیا جاتا تو کبھی دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر بانسری کے سر چھیڑے جاتے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ماہیوال چھیڑا کرتا تھا۔

شکر کے شربت، ستو، کچی لسی، سردائی اور ٹھنڈائی گرمیوں میں مہمانوں کی تواضع کا بڑا ذریعہ تھے۔ یہ نہ ہوئے تو گنڈیریاں، جامن اور کچی کیری یا آم کے مزے لئے جاتے تھے۔

ٹھنڈے پانی کے لئے گھر گھر بڑے بڑے گھڑے اور مٹکے رکھے جاتے تھے۔ صراحیوں کا استعمال بھی عام تھا۔ دہی لانے کے لئے اسی طرح کے آب خورے استعمال کئے جاتے تھے جیسے اب حیدرآباد کی ربڑی کے ہوتے ہیں۔ یہ روایت بھی ہوسکتا ہے چند دنوں میں ختم ہوجائے اور نئی نسل کو آب خورے کے بارے میں صرف کتابوں میں پڑھنے کو ملے۔

نہروں، کھالوں اور ٹیوب ویلوں پر شام کے وقت تربوز، خربوزے اور آم کھانا اور نہانا بھی ایک شاندار روایت تھی۔ بچوں نے گلی میں آواز لگاتے گولے گنڈے والے کی آواز سنی نہیں کہ فوراً باہر کی طرف بھاگتے تھے۔ کچھ شہروں میں گولے گنڈے والا اب بھی آتا ہے۔ لال، نیلے، پیلے اور ہرے رنگ کے گولے گنڈے اب بھی ملتے ہیں، بچوں کا دل ابھی انہیں کھانے کو ترستا ہے مگر اب ماں باپ ہی ڈاٹ کر منع کردیتے ہیں اور بہانے یہ کرتے ہیں کہ گلا خراب ہوجائے گا ۔۔ برف گندے پانی سے بنی ہے، ایسنس نقصان دے گا۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔

XS
SM
MD
LG