رسائی کے لنکس

سنی اتحاد کونسل کی امریکہ سے رقم لینے کی تردید


ممتاز قادری کے حق میں مظاہرہ

ممتاز قادری کے حق میں مظاہرہ

بریلوی فرقے کی نمائندگی کرنے والی پاکستان کی ’سنی اتحاد کونسل‘ نامی تنظیم کی بنیاد 2009ء میں رکھی گئی تھی اور یہ اہل سنت کی 25 چھوٹی بڑی نمائندہ جماعتوں پر مشتمل ہے۔

اسلامی تنظیموں کے اس اتحاد کے قائدین نے ملک میں خودکش حملوں کے خلاف فتوے جاری کرنے کے علاوہ انتہا پسند مذہبی رجحانات کے خلاف جلسے جلوسوں کی قیادت بھی کی ہے۔

ایک امریکی خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے سنی اتحاد کونسل کی اس مہم کی حوصلہ افزائی کے لیے 2009ء میں ساڑھے چھتیس ہزار سے زائد ڈالر کی رقم تنظیم کو فراہم کی تھی اور اس کی بدولت جلسے جلسوں کو مقامی ذرائع ابلاغ میں بہت زیادہ اجاگر بھی کیا گیا کیونکہ پاکستان میں انتہا پسندی کے خلاف ایسی ریلیاں پہلے نہیں نکالیں گئیں۔

لیکن وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سنی اتحاد کونسل کے چئیرمین صاحبزادہ فضل کریم نے امریکہ سے مالی مدد لینے کی تردید کی ہے۔ ’’یہ ہمارے خلاف پراپیگینڈہ مہم کا حصہ ہے کیونکہ سنی اتحاد کونسل مغربی جمہوری نظام، خطے اور دنیا میں امریکہ کی پالیسیوں کے سخت مخالف ہیں۔‘‘

صاحبزادہ فضل کریم

صاحبزادہ فضل کریم

سنی اتحاد کونسل کے ایک عہدے دار نے امریکہ سے فنڈ ملنے کی خبروں پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ ان کی تنظیم اندرونی تحقیقات کر کے اصل حقائق کا پتہ لگائے گی۔

امریکی سفارت خانے کے عہدے دار کے بقول امداد ملنے کے بعد سے سنی اتحاد کونسل کی قیادت اور موقف میں تبدیلی آئی ہے۔ ان کا اشارہ بظاہر ان مظاہروں کی طرف تھا جو اس تنظیم نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے حق میں کیے ہیں۔ ممتاز قادری نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی وجہ توہین رسالت کے قانون پر مقتول گورنر کی تنقید بتائی تھی۔ انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کی طرف ممتاز قادری کو سنائی گئی سزائے موت کی بھی سنی اتحاد کونسل نے مخالفت کی ہے۔

کونسل کے چئیرمن فضل کریم نے انتہا پسندی کے خلاف اپنی تنظیم کے موقف کو دہراتے ہوئےکہا کہ وہ ممتاز قادری کی بھی حمایت کرتے ہیں کیونکہ ان کے بقول اس نے جو بھی کیا ٹھیک کیا۔

XS
SM
MD
LG