رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمان مستعفی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جسٹس اقبال حمید الرحمان کو فروری 2013ء میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا اور انھوں نے 2021ء میں ریٹائرڈ ہونا تھا۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے ایک جج جسٹس اقبال حمید الرحمان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں اور انہوں نے ضابطے کے مطابق اپنا استعفیٰ صدر مملکت ممنون حسین کو بھجوا دیا ہے۔

جسٹس اقبال حمید الرحمان نے پاکستان کے آئین کی شق 206 (1) کے تحت صدر پاکستان کو تحریری طور پر اپنا استعفیٰ بھیجا، تاہم اُنھوں نے اپنا منصب چھوڑنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔

جسٹس اقبال حمید الرحمان کو فروری 2013ء میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا اور انھوں نے 2021ء میں ریٹائرڈ ہونا تھا۔

آئین کی رو سے پاکستان کی سپریم کورٹ کے ججوں کی تعیناتی صدر مملکت کرتے ہیں اور اگر سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا کوئی جج اپنے عہدے سے مستعفی ہونا چاہے تو اس صورت میں وہ اپنا استعفیٰ صدر کے نام ہی بھیجنے کے پابند ہیں۔

قبل ازیں اقبال حمید الرحمان اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر بھی کام کر چکے ہیں اور وہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس حمود الرحمان مرحوم کے بیٹے ہیں ۔

انہیں 2006ء میں لاہور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا، اس کے ایک سال کے بعد وہ لاہور ہائی کورٹ کے مستقل جج بن گئے۔

2007ء میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے جاری کیے جانے والے عبوری آئینی حکم نامہ کے تحت یعنی ’پی سی او‘ کے تحت انہوں نے دوبارہ اپنے عہدے کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت جب اسلام آباد ہائی کورٹ کا قیام عمل میں آیا تو جنوری 2011ء وہ پہلے چیف جسٹس تعینات کیے گئے تھے۔

رواں ماہ ہی جسٹس اقبال حمید الرحمان نے سپریم کورٹ کے اُس بینچ میں شمولیت معذرت کر لی تھی، جس نے توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی اپیل کی سماعت کرنی تھی۔

جسٹس اقبال حمید الرحمان نے یہ کہہ کر خود کو اس سماعت سے علیحدہ کر لیا تھا کہ وہ پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے مقدمہ قتل کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں شال تھے اور کیوں کہ ان دونوں مقدمات کا آپس میں تعلق ہے اس لیے وہ بینچ میں شامل نہیں رہنا چاہتے۔

جب کہ اُن کا نام اس حوالے سے بھی خبروں میں رہا کہ اسلام آباد میں ہائی کورٹ چیف جسٹس کے طور پر اُنھوں نے جو بھرتیاں کی تھیں اُنھیں سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG