رسائی کے لنکس

عالمی کساد بازاری کے خلاف مرکزی بینکوں کا اتحاد


عالمی کساد بازاری کے خلاف مرکزی بینکوں کا اتحاد

عالمی کساد بازاری کے خلاف مرکزی بینکوں کا اتحاد

دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں کے مرکزی بینکوں نے عالمی معیشت کو کساد بازاری سے بچانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔

امریکہ کے 'فیڈرل ریزور، یورپین سینٹرل بینک، بینک آف انگلینڈ اور جاپان، کینیڈا اور سوئٹزرلینڈ کے مرکزی بینکوں نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ بینکوں کو آئندہ پیر سے امریکی ڈالر نصف فی صد کم پوائنٹ پر ادھار دیا جائے گا۔

اس اقدام کا مقصد دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانا اور خصوصاً یورپی بینکوں میں پیسے کی گردش میں اضافہ کرنا ہے جو یورپی حکومتوں کو درپیش قرضوں کے بحران کے باعث ان دنوں شدید دبائو کا شکار ہیں۔

مرکزی بینکوں کے اعلان کے بعد بدھ کو نیویارک، لندن، پیرس اور فرینکفرٹ کی اسٹاک مارکیٹوں میں تین فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گو کہ تجزیہ کاروں نے مرکزی بینکوں کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کئی ماہرین اس کے اثرات کے دیرپا ہونے کےحوالے سے سوالات اٹھارہے ہیں۔

واضح رہے کہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں مسلسل کئی ہفتوں سے حصص کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں اور ان میں اتار چڑھائو دیکھا جارہا ہے جس کا بنیادی سبب سرمایہ کاروں میں یورو کے مستقبل اور حکومتی قرضوں کے بحران کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی کی صورتِ حال ہے۔

مرکزی بینکوں کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی نظام کو سہارا فراہم کرنے کی غرض سے کیے گئے اس اقدام کے نتیجے میں گھروں اور کاروباروں کی رقم تک رسائی ممکن ہوگی جس کے نتیجے میں ہونے والے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے سے نئی عالمی کساد بازاری کے پیدا ہونے کے خدشات کا ازالہ ہوگا۔

دریں اثنا یورپی ممالک کو درپیش قرضوں کے بحران کا حل تاحال تلاش نہیں کیا جاسکا ہے اور اس حوالے سے یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کا برسلز میں ہونے والا اجلاس کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا ہے۔

یورپی وزرائے خزانہ اجلاس کے دوران برِاعظم کے 17 ممالک کی مشترکہ کرنسی 'یورو' کو مستحکم کرنے کے حوالے سے کسی منصوبے پر متفق نہیں ہوسکے ہیں جس کےبعد اس ضمن میں کوئی حتمی فیصلہ یورپی سربراہانِ مملکت کے آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں متوقع ہے۔

یورپی یونین کےمعاشی امور کے نگران اولی ریہن نے بحران کے خاتمے کا حل تجویز کرنے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ملکوں کے لیے مزید بین الاقوامی 'بیل آئوٹ' منصوبوں کے حوالے سے آئندہ چند روز کو اہم قرار دیا ہے۔

یورپی رہنما یورو زون میں شامل ممالک کے معاشی معاملات کا کنٹرول ایک ایسی مرکزی اتھارٹی کے سپرد کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں جو ان ممالک کے سرکاری اخراجات اور بچت اقدامات پر عمل درآمد کی نگرانی کرسکے۔

لیکن اب تک اس تجویز کو یورپی ممالک میں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران یونان، آئرلینڈ اور پرتگال کو درپیش مالی بحرانوں پہ قابو پانے کی غرض سے ان ممالک کی حکومتوں کو بین الاقوامی امدادی پیکجز فراہم کیے جاچکے ہیں۔

لیکن اب یورپی رہنما براعظم کی تیسری بڑی معیشت اٹلی کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں جس کے بیرونی قرضوں کا حجم 26 کھرب ڈالرز سے تجاوز کرگیا ہے۔

سوئیڈن کے وزیرِ خزانہ آندریس بورگ نے اٹلی کی نئی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بچت کے نئے منصوبوں پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ سرماریہ کاروں کو یہ یقین دلایا جاسکے کہ وہ قرضوں کے بحران پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

XS
SM
MD
LG