رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات


فائل

فائل

بار کے صدر کے عہدے کے لیے روایتی حریف عاصمہ جہانگیر گروپ کے میاں اسرار الحق اور حامد خان گروپ کے احمد اویس کے علاوہ ایک آزاد امیدوار ظفر اللہ خان میدان میں ہیں۔

پاکستان میں وکلا کی مرکزی تنظیم 'سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن' کے نئے عہدیداران کے انتخاب کے لیے ہونے والی ووٹنگ مکمل ہوگئی ہے جس کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

پاکستان کی وکلا برادری کے اعلیٰ ترین نمائندوں کے انتخاب کیلیے بدھ کو ہونے والی پولنگ میں بار کے صدر، چار نائب صدور، سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری، خزانچی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے 14 ارکان سمیت 22 رکنی کابینہ کے لیے لگ بھگ 60 امیدواران میدان میں ہیں۔

سپریم کورٹ بار کی روایات کے تحت اس بار تنظیم کے صدر کا انتخاب صوبہ پنجاب سے ہونا ہے جس کے لیے تین امیدواران قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ ان میں بار کے انتخابات میں روایتی حریف عاصمہ جہانگیر گروپ کے میاں اسرار الحق اور حامد خان گروپ کے احمد اویس کے علاوہ ایک آزاد امیدوار ظفر اللہ خان شامل ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات برائے سال 13-2012 کے لیے بدھ کو ہونے والی پولنگ میں ملک بھر میں ووٹ ڈالنے کے اہل بار کے 2592 ارکان کے لیے اسلام آباد، لاہور، کراچی، حیدرآباد، پشاور، کوئٹہ، ایبٹ آباد، ملتان اور بہاولپور میں پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جہاں صبح 9 سے شام 5 بجے تک ووٹنگ کا عمل جاری رہا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں گزشتہ دو برسوں سے عاصمہ جہانگیر گروپ کامیاب ہوتا آرہا ہے جسے حکمرا ن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلا کی حمایت بھی حاصل رہی ہے۔ سال 11-2010 میں خود عاصمہ جہانگیر بار کی صدر منتخب ہوئی تھیں جب کہ موجودہ صدر یسین آزاد کا تعلق بھی انہی کے گروپ سے ہے۔

اس کے برعکس احمد اویس کا تعلق معروف قانون دان اور وکیل رہنما حامد خان کی سربراہی میں قائم وکلاء کے "پروفیشنل گروپ" سے ہے جسے آزاد عدلیہ کا سرگرم حامی اور حکومت مخالف گروپ کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ عدلیہ بحالی تحریک میں سرگرم کردار ادا کرنے والا "پروفیشنل گروپ" 2010ء میں عاصمہ جہانگیر کے انتخاب سے قبل لگاتار چار برسوں تک سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتا رہا ہے۔

گروپ کے امیدوار احمد اویس عدلیہ بحالی تحریک کے عروج کے زمانے میں لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 2010ء میں بھی سپریم کورٹ بار کے صدر کے عہدے کے لیے عاصمہ جہانگیر کے خلاف انتخاب لڑا تھا لیکن صرف 38 ووٹوں سے ہار گئے تھے۔
XS
SM
MD
LG