رسائی کے لنکس

سرجری سے نفسیاتی بیماریوں کا علاج

  • سنہادوشی

سرجری سے نفسیاتی بیماریوں کا علاج

سرجری سے نفسیاتی بیماریوں کا علاج

سرجری کے ذریعے نفسیاتی بیماریوں کا علاج ہمیشہ سے ایک متنازع رہا ہے۔ لیکن ایک حالیہ تحقیق اس طریقہ علاج کا ایک نیا رخ سامنے لائی ہے۔

بجلی کے جھٹکے دے کر دماغ کو جگانے کا عمل وہی کام کرتا ہے جو دل کے دورے کی صورت میں دل کی دھڑکن کو ہموار کرنے والا آلہ پیس میکر کرتا ہے۔ لیکن ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اس طریقہ علاج سے جسے ڈیپ برین سٹمو لیشن یا ڈی بی ایس کہا جاتا ہے , ڈپریشن یا نفسیاتی بیماریوں کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے ۔

ڈاکٹر بینجمن گرین برگ نےادویات اور تھیراپی کی ناکامی کے بعد اس طریقہ علاج کو اپنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس یہ شواہد ہیں کہ یہ طریقہ علاج اتنا ہی مؤثر ہے جتنا کہ نفسیاتی طریقہ علاج۔ اس سے آدھے سے زیادہ مریضوں کا علاج ہو سکے گا۔

لیکن ڈاکٹر بینجمن کہتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں بہت احتیاط سے کام لیتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اس طریقہ علاج کو روایتی طریقہ علاج کے ناکام ہونے کے بعد ہی استعمال کرنا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ سرجری کے ذریعے لگائے جانے والے برقی آلے یا الیکٹروڈز علاج نہیں ہیں۔دماغ میں جانے والی بجلی کی تاریں صرف زیادہ ذہنی دباؤ کے باعث معذور ہوجانے والے مریضوں کے لیے ہی فائدہ مند ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر بینجمن کا کہنا ہے ذہنی دباؤ وہم یا ان کا موں کا ردعمل ہوتا ہے جو آپ بار بار کرتے ہیں، جیسے بار بار ہاتھ دھونا، اردگرد کی چیزوں کو ترتیب دینا، ذہن میں چیزوں کو دوہرانا یا دعا کرنا۔

اب تک دنیا بھر 70 ہزار مریضوں کی دماغی حالت کو بہتر کرنے کہ یہ برقی آلے لگائے جا چکے ہیں۔ پچھلے 10 سال میں امریکہ میں 70 مریضوں کا اس طریقے سے علاج سے کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ شدید ذہنی دباؤ ،ڈپریشن اور رعشہ کی بیماری کے ایسے مریضوں کا علاج بھی تجرباتی طور پر اس سے کیا جاتا رہا ہے جن پر دوسرے علاج کامیاب کارگرنہیں ہوتے۔لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی بیماریوں کے لیے اس طریقہ علاج کو مستند ہونے میں ابھی وقت درکار ہے۔

ڈاکٹر ماہلن ڈیلونگ کا کہناہے کہ کئی سال سے اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اور ابھی تک ہم نے اسے مستند طریقہ علاج نہیں قرار دیا۔

اس کے علاوہ خون کا بہنا اور جسمانی دوروں جیسے سائیڈ ایفکٹس بھی اس پیش رفت کی راہ میں حائل ہیں۔ یہ طریقہ علاج ابھی تک تجرباتی مراحل میں ہے اور ڈاکٹر جوزف فنز کا کہنا ہے کہ اس طریقہ علاج کو موثر قرار دینے میں بہت وقت لگے گا۔

ابھی تک اس بات کا تعین بھی نہیں ہو سکا کہ نفسیاتی اورذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے دماغ میں کس جگہ بجلی کے جھٹکے دیے جانے چاہئیں۔

XS
SM
MD
LG