رسائی کے لنکس

’سرجیکل اسٹرائیکس‘ کی کامیابی غیر یقینی ہوا کرتی ہے: ماہرین


’سرجیکل اسٹرائیکس‘ کا مقصد کسی خاص فوجی ہدف کا حصول ہوا کرتا ہے۔ شام کے معاملے میں یہ ہدف صدر بشار الاسد کی حکومت کو ایک انتباہ دینا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد، ٹرمپ انتظامیہ نے سرخ لکیر کھینچ دی ہے اور وہ اس پر عمل درآمد کراکے رہے گی

جس طرح کی ’سرجیکل‘ کارروائی جمعرات کے روز امریکہ نے شامی حکومت کے خلاف کی، تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو اِن کے مؤثر ہونے کے بارے میں یقین سے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ فوجی ماہرین کے مطابق، اِس سے جو سوال جنم لیتا ہے وہ یہ ہے آیا اِس سے چھ برس پرانا شام کا تنازعہ کوئی اور رُخ اختیار کرے گا۔

شامی فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا اقدام، جو منگل کے روز شامی افواج کی جانب سے مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں کیا گیا، وہ ایک محدود نوعیت کا تھا۔

بِل روجیو واشنگٹن میں قائم ’فاؤنڈیشن فور ڈفنس آف ڈیموکریسیز‘ کے ادارے کی جانب سے شائع ہونے والے رسالے، ’لونگ وار جرنل‘ کے ایڈیٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ سارا حکمتِ عملی کا معاملہ ہے۔ یہ تبھی کامیاب کہلائے گا جب اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچایا جائے‘‘۔

’سرجیکل اسٹرائیکس‘ کا مقصد کسی خاص فوجی ہدف کا حصول ہوا کرتا ہے۔ شام کے معاملے میں یہ ہدف صدر بشار الاسد کی حکومت کو ایک انتباہ دینا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد، ٹرمپ انتظامیہ نے سرخ لکیر کھینچ دی ہے اور وہ اس پر عمل درآمد کراکے رہے گی۔ اوباما انتظامیہ کے دور میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد، اُس نے سرخ لکیر کھینچی تھی، لیکن اس پر نفاذ میں تذبذب سے کام لیا گیا، جب 2013ء میں روس کی ثالثی میں ہونے والے سمجھوتے کے تحت، شام نے اتفاق کیا تھا کہ وہ اپنا کیمیائی اسلحے کا ذخیرہ تلف کردے گا۔

لِنڈا روبنسن، ’رینڈ‘ میں دفاعی پالیسی کی ایک سینئر تحقیق کار ہیں۔ بقول اُن کے ’’ٹرمپ انتظامیہ نے اب ایک لکیر کھینچ لی ہے اور بتا دیا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں سے حملے برداشت نہیں کرے گی، اور اب گیند روس کی کورٹ میں ہے‘‘۔

ماضی میں امریکی صدور کے احکامات پر کی جانے والی سرجیکل اسٹرائیکس ایک حد تک ہی کامیاب ہوئی تھیں۔

سنہ 1986میں، صدر رونالڈ ریگن نے لیبیائی حکومت کے اہداف پر فضائی کارروائی کے ایک سلسلے کے احکامات جاری کیے تھے، جس کا مقصد اُس سے 10 روز قبل برلن کے ناچ گانے کے کلب پر لیبیا کے دہشت گرد حملے کا جواب دینا تھا۔

فضائی چھاپہ معمر قذافی کی حکومت کو ہٹانے میں ناکام رہا تھا۔ تاہم، کیا اس سے لیبیا کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور سنہ 2004میں بیلسٹک میزائل کے منصوبے کی تلفی ہو پائی۔ یہ بات واشنگٹن میں قائم ’بائی پارٹیسن پالیسی سینٹر‘ میں قومی سلامتی کے پروگرام کے سربراہ، بلیس مستل نے کہی ہے۔

مستل کے بقول، ’’اس حملے کے نتیجے میں داخلی طور پر حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔ لیکن، اس کی وجہ سے حکومت کے بیرونی طریقہ حکمرانی پر یقینی طور پر اثر پڑا تھا‘‘۔

سنہ 1990کی دہائی میں، صدر بِل کلنٹن نے صدام حسین اور القاعدہ کے خلاف دباؤ بڑھانے کی خاطر سرجیکل اسٹرائیکس کو وسعت دی تھی۔ سنہ 1993میں، امریکی بحری جہازوں نے بغداد پر 23 ٹوم ہاک میزائل داغے تھے، جس کا مقصد سابق صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کو قتل کرنے کی ناکام کوشش پر سزا دینا تھا۔ اور سنہ 1998میں بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر میں لنگر انداز امریکی بحری بیڑے نے افغانستان اور سوڈان پر تقریباً 90 کروز میزائل چلائے تھے، جو القاعدہ کی جانب سے کینیا اور تنزانیہ میں امریکہ سفارت خانوں پر کیے گئے بم حملوں کا جواب تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG