رسائی کے لنکس

امریکہ: مذہب کے ماننے والوں کی تعداد میں کمی


فائل

فائل

اس وقت امریکہ کی آبادی میں غیر مسیحی مذاہب کے ماننے والوں کا تناسب چھ فی صد ہے جن میں مسلمان اور ہندو سرِ فہرست ہیں۔

ایک حالیہ سروے کے نتائج کے مطابق بیشتر امریکی اب بھی عیسائیت کو اپنا مذہب قرار دیتے ہیں لیکن ملک میں خدا کے وجود کے انکاری افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

'پیو ریسرچ سینٹر' کے زیرِ اہتمام امریکہ میں مذہبی تبدیلیوں سے متعلق ہونے والے سروے میں کہا گیا ہے کہ لگ بھگ 70 فی صد - 17 کروڑ 30 لاکھ - امریکی باشندے خود کو عیسائیت کا پیروکار قرار دیتے ہیں۔

لیکن سروے کے نتائج کے مطابق 2007ء میں خود کو مسیحی قرار دینے والے ان امریکیوں کی تعداد 78 فی صد تھی جو بتدریج کم ہورہی ہے۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ خود کو ملحد، لامذہب یا خدا کے وجود سے لاتعلق قرار دینے والے امریکی باشندوں کی تعداد اس عرصے کے دوران 16 فی صد سے بڑھ کر 23 فی صد ہوگئی ہے۔

خود کو کسی مذہب سے نہ جوڑنے والے ان امریکیوں میں ہر عمر، طبقے، نسل اور جنس کے لوگ شامل ہیں، لیکن سروے کے مطابق، نوجوانوں میں ملحدانہ خیالات زیادہ تیزی سے فروغ پارہے ہیں۔

'پیو' کے سروے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں غیر مسیحی مذاہب میں خاصا تنوع پایا جاتا ہے لیکن ان مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد میں 2007ء سے 2014 کے دوران صرف ایک فی صد اضافہ ہوا۔

سروے کے مطابق اس وقت امریکہ کی آبادی میں غیر مسیحی مذاہب کے ماننے والوں کا تناسب چھ فی صد ہے جن میں مسلمان اور ہندو سرِ فہرست ہیں۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں بین المذاہب شادیوں میں اضافہ ہورہا ہے اور کسی اور مذہب کے شخص سے شادی کرنے والے تقریباً 40 فی صد افراد ایسے ہیں جنہوں نے یہ رشتہ 2010ء کے بعد استوار کیا ہے۔

'پیو' کے مطابق رائے عامہ کا یہ جائزہ 35 ہزار سے زائد افراد کے انٹرویوز کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے جو گزشتہ سال جون سے ستمبر کے دوران ریکارڈ کیے گئے۔

XS
SM
MD
LG