رسائی کے لنکس

عمران فاروق قتل کیس کے اہم ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ


ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے بعد ان کے گھر کے باہر کا ایک منظر (فائل)

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے بعد ان کے گھر کے باہر کا ایک منظر (فائل)

وزیرِ داخلہ نے اس گرفتاری کو عمران فاروق قتل کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ملزم کو کراچی سے گرفتار کیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے کے ایک اہم ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جسے منگل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اُنھوں نے اس گرفتاری کو عمران فاروق قتل کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ملزم کو کراچی سے گرفتار کیا گیا ہے۔

وزیرِ داخلہ کے مطابق گرفتار شخص ان دونوں مشتبہ افراد کو برطانیہ میں بھیجنے میں ملوث تھا جن کے نام عمران فاروق قتل کے مقدمے میں سامنے آئے ہیں۔

پیر کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا، "اصل ملزم انہیں برطانیہ بھیجنے والا شخص تھا جس نے وہاں کے تعلیمی اداروں میں اُن کے داخلے کا انتظام کیا اور ویزے حاصل کرنے میں اُن کی مدد کی۔ مجھے اس بات پر اطمینان ہے کہ وہ شخص گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مشترکہ کوشش سے وہ شخص کراچی میں گرفتار ہو چکا ہے اور اسے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔"

ان کے بقول، "جو بنیادی کردار تھا، جس نے یہ سب کچھ کیا، ہماری تفشی کے مطابق ساری بینکنگ ٹرانزیکشنز، ویزا کی فراہمی اور باقی جو معاملات طے کیے اس میں ایک شخص مطلوب تھا۔ گزشتہ ایک سال سے ہماری سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں پوری کوشش کر رہی تھی کہ وہ گرفتار ہو کیونکہ وہ مرکزی کردار ہے۔"

وزیر داخلہ نے کہا کہ کیس کی مزید تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیاستی ٹیم بھی تشکیل دی جائے گی۔

چوہدری نثار علی خان نے مزید کہا کہ اس گرفتاری کا مقصد سیاسی نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس کیس سے متعلق جو معلومات حکومتِ پاکستان کے پاس موجود تھیں ان کا تبادلہ برطانوی پولیس سے بھی کیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس کیس پر بہت سا کام کیا ہوا ہے جس سے اُن کے بقول اب اس مقدمے کی تحقیقات میں بڑی تیزی سے پیش رفت ہو گی۔

ڈاکٹر عمران فاروق کو ستمبر 2010ء میں لندن میں اُن کے گھر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا اور لندن کی میٹروپولیٹن پولیس تاحال ان کے قتل کی تحقیقات کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG