رسائی کے لنکس

فضائی حملے افغان طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ


افغان طالبان نے ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں اپنے ایک اہم کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

طالبان ذرائع کے مطابق جمعرات کو پاکستان سے متصل افغان صوبے خوست میں ہونے والے ایک میزائل حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں ایک طالبان کمانڈر قاری عبداللہ معراج ہے۔

طالبان کے مطابق حملہ بظاہر امریکی ڈرون سے کیا گیا۔ لیکن امریکی فوج کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ امریکہ نے جمعرات کو پاکستان یا اس سے متصل افغان علاقوں میں کوئی فضائی کارروائی نہیں کیا۔

قاری عبداللہ معراج وہی شخص ہے جس نے تین سال قبل امریکی فوجی اہلکار بوو برگڈہل کی طالبان کی حراست سے رہائی کے وقت اسے واپس افغانستان نہ آنے کا پیغام دیا تھا۔

بوو برگڈہل کو پانچ سال تک اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد طالبان جنگجووں نے مئی 2014ء میں گوانتانامو کے امریکی قید خانے میں موجود اپنے پانچ ساتھیوں کی رہائی کے بدلے رہا کردیا تھا۔

طالبان نے برگڈہل کو صوبہ خوست کے ضلع علی شیر میں حکام کے حوالے کیا تھا جس کی بعد ازاں انہوں نے ویڈیو بھی جاری کی تھی۔

ویڈیو میں رہائی سے عین قبل ایک نقاب پوش شخص پشتو زبان میں امریکی فوجی اہلکار سے کہتا ہے کہ واپس لوٹ کر افغانستان مت آنا ورنہ یہاں سے زندہ بچ کر نہیں جاسکو گے۔

بعد ازاں طالبان ذرائع نے نقاب پوش شخص کو قاری عبداللہ معراج کے نام سے شناخت کیا تھا جو اطلاعات کے مطابق جمعرات کو ہونے والے حملے میں مارا گیا ہے۔

طالبان نے حملے میں ہلاک ہونے والے دوسرے شخص کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی ہے۔

جمعرات کو سامنے آنے والی خبروں میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے علاقے کرم ایجنسی میں ایک مبینہ ڈرون حملے میں دو موٹر سائیکل سوار مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

لیکن امریکی فوج کی اس وضاحت کے بعد کہ انہوں نے علاقے میں جمعرات کو کوئی حملہ نہیں کیا، یہ واضح نہیں کہ مذکورہ افراد کیسے مارے گئے۔

دشوار گزار علاقہ ہونے اور سکیورٹی کی صورتِ حال کے باعث تاحال حملے کے درست مقام کی نشان دہی نہیں ہوسکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG