رسائی کے لنکس

نائیجیریا: 100 سے زائد خواتین و بچے اغوا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

گومسوری گاؤں پر حملے میں بچ جانے والے ایک شخص ابا موسیٰ کے مطابق واقعے کے بعد جب مقامی لوگوں کی گنتی کی گئی تو پتا چلا کہ 172 افراد اغوا ہو چکے ہیں۔

نائیجیریا کے شمال مشرق میں شدت پسندوں نے 172 خواتین اور بچوں کو اغوا جب کہ 35 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ یہ واقعہ اتوار کو گومسوری گاؤں میں پیش آیا لیکن یہ خبر جمعرات کو دیر گئے منظر عام پر آئی۔

گو کہ اس واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن نائیجیریا میں سرگرم شدت پسند گروپ بوکو حرام ایسے کئی واقعات کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے جس بنا پر شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ گاؤں پر حملے کے اس واقعے میں بھی بوکو حرام کے شدت پسند ملوث ہو سکتے ہیں۔

اس گروپ نے رواں سال اپریل میں چیبوک نامی علاقے سے تقریباً دو سو سے زائد طالبات کو اغوا کیا تھا کہ اور یہ علاقہ تازہ حملے کا نشانہ بننے والے گاؤں سے محض 24 کلومیٹر دور ہے۔

بوکو حرام جس کا مطلب ہے "مغربی تعلیم گناہ ہے"، کی پرتشدد کارروائیاں افریقہ کے بڑے اقتصادی ملک کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہیں۔

گومسوری گاؤں پر حملے میں بچ جانے والے ایک شخص ابا موسیٰ کے مطابق واقعے کے بعد جب مقامی لوگوں کی گنتی کی گئی تو پتا چلا کہ 172 افراد اغوا ہو چکے ہیں۔

ان کے بقول حملہ آور "اللہ اکبر" کے نعرے لگا رہے تھے اور انھوں نے گاؤں والوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' سے بات کرتے ہوئے موسیٰ کا کہنا تھا کہ "اغوا ہونے والوں میں میری بہن اور اس کے سات بچے بھی شامل ہیں"۔

XS
SM
MD
LG