رسائی کے لنکس

’جی ایچ کیو‘ پر حملے کا مبینہ منصوبہ ساز ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکام کو اطلاع ملی تھی کہ اکبر علی چند دیگر مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ ایک احاطے میں موجود ہے۔ جب سکیورٹی اہلکار وہاں پہنچے اور انھوں نے مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے متنبہ کیا تو اس نے فائرنگ شروع کر دی۔

پاکستان کی فوج کے راولپنڈی میں واقع ہیڈکوارٹر پر سات سال قبل ہونے والے دہشت گرد حملے کا ایک مبینہ منصوبہ ساز قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے قریب سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں مارا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے جمعرات کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بدھ کی شام ضلع ٹانک کے علاقے مزیانی کوٹ حکیم میں انٹیلی جنس کی معلومات پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس میں دو مشتبہ دہشت گرد مارے گئے۔

مرنے والوں میں اکبر علی نامی شخص بھی شامل تھا جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ طور پر فوج کے صدر دفتر ’جی ایچ کیو‘ پر ہونے والے حملے کے منصوبہ سازوں میں شامل تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ حکام کو اطلاع ملی تھی کہ اکبر علی چند دیگر مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ ایک احاطے میں موجود ہے۔ جب سکیورٹی اہلکار وہاں پہنچے اور انھوں نے مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے متنبہ کیا تو اس نے فائرنگ شروع کر دی۔

جوابی فائرنگ میں اکبر علی اور ایک مشتبہ دہشت گرد مارے گئے۔

اکتوبر 2009ء میں راولپنڈی میں فوج کے ہیڈکوارٹر پر فوجی وردیوں میں ملبوس دس دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا اور کئی گھنٹوں کی کارروائی کے بعد نو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا جب کہ ایک کو زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس دوران فوج کے ایک بریگیڈیئر سمیت 11 افراد مارے گئے۔

زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے دہشت گرد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو عدالت نے سزائے موت سنائی تھی جس پر دسمبر 2014ء میں عملدرآمد کیا گیا۔

اکبر علی کے بارے میں سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ وہ مبینہ طور پر مختلف دہشت گرد کارروائیوں اور اغوا کی وارداتوں میں بھی ملوث تھا۔

جہاں یہ کارروائی کی گئی وہ افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے قریب ہے، اس کارروائی کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

چند سال قبل تک شدت پسندوں نے جنوبی وزیرستان اور اس سے ملحقہ ایک اور قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں محفوظ پناہ گاہیں قائم کر رکھی تھیں لیکن سکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائیاں کر کے یہاں ہزاروں ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے سیکڑوں ٹھکانوں کا تباہ کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG