رسائی کے لنکس

یمن: سعودی اتحاد کا شادی کی تقریب پر مبینہ فضائی حملہ، 15 افراد ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

عینی شاہدین اور سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے یہ حملہ دھامر صوبے کے علاقے سنبان کے میں ہوا جو شیعہ باغیوں کے قبضے میں ہے۔

یمن میں ایک شادی کی تقریب پر سعودی عرب کی زیرقیادت اتحاد کی مشتبہ فضائی کارروائی میں 15 افراد ہلاک اور 25 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

عینی شاہدین اور سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے یہ حملہ بدھ دیر گئے دھامر صوبے کے علاقے سنبان میں ہوا جو شیعہ باغیوں کے قبضے میں ہے اور جن کے خلاف اتحادی گزشتہ کئی ماہ سے فضائی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

تاہم سعودی زیر قیادت اتحاد کی طرف سے تاحال اس حملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اتحاد پر پہلے بھی تواتر کے ساتھ یمن میں مہلک حملے کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہونے والی فضائی کارروائیوں میں 1,100 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ دس روز میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں اتحادیوں پر شادی کی تقریب کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم سعودی قیادت میں اتحاد نے 28 ستمبر کو بحیرہ احمر کے ساحل کے قریب ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا جس میں 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے یہ مہلک ترین حملہ تھا۔

سعودی زیر قیادت عرب اور خلیجی ممالک کے اتحاد نے حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں 26 مارچ سے فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ ان کارروائیوں کے شروع ہونے سے قبل حوثی باغیوں نے حکومت کو بے دخل کر کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔

بدھ کو حوثیوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے امن منصوبے کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خونریز لڑائی کے خاتمے کے لیے امن مزاکرات میں شامل ہونے پر تیار ہیں۔

جبکہ صدر عبدو ربو منصور ہادی کا اصرار ہے کہ حوثی جنگجو پہلے ان علاقوں کو خالی کر دیں جن پر گزشتہ ایک سال کے دوران انہوں نے قبضہ کیا تھا اس کے بعد ہی ان کی حکومت ان مذاکرات میں شرکت کر سکتی ہے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ اور دوسرے امدادی اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ یہ لڑائی انسانی المیے کا باعث بن سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG