رسائی کے لنکس

معاہدے پر دستخط کے بعد عالمی بینک کی نائب صدر نے پاکستان میں ’اکنامک کوریڈور‘ کی تعمیر اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ذکر کیا؛ اور کہا کہ معاشی شرح نمو 4.2 فیصد ہے، جو معاشی استحکام کی غماز ہے

حکومتی کارکردگی پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے، عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی استحکام کے لئے 50 کروڑ ڈالر گرانٹ کی منظوری دیدی ہے۔ اس سلسلے میں جمعرات کو واشنگٹن میں معاہدے پر دستخط ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے سفیر، جلیل عباس جیلانی اور عالمی بنک کی جانب سے جنوبی ایشیا کے لئے نائب صدر اینکس ڈیکسون نے دسختط کئے۔

اس گرانٹ کو نجی شعبے اور مالیاتی اداروں کے استحکام کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

عالمی بینک کی یہ گرانٹ معاشی استحکام کے لئے دی جانے والی ایک ارب ڈالر مالیت کے منصوبے کی دوسری قسط ہے، جس کی منظوری سے قبل بینک کے بورڈ نے پاکستان کی موجودہ معاشی سرگرمیوں کا باضابطہ جائزہ لیا۔

معاہدے پر دستخط کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے، عالمی بینک کی نائب صدر، اینکس ڈیکسون نے پاکستان میں ’اکنامک کوریڈور‘ کی تعمیر اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ذکر کیا، اور کہا کہ معاشی شرح نمو 4.2 فیصد پہنچ ہوگئی ہے، جو معاشی استحکام کی عکاسی کرتی ہے۔

بقول اُن کے، ’اکنامک کوریڈور پاکستان میں معاشی استحکام کا ذریعہ بنے گا اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی، ہم سمجھتے ہیں کہ نچلی سطح پر انٹرپرینور شپ کے فروغ کاذریعہ بن رہا ہے‘۔

پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے عالمی بینک کی جانب سے گرانٹ کی منظوری کو پاکستان کے موجودہ حکومت کی معاشی استحکام کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی توثیق قرار دیا اور بتایا کہ آئندہ ہفتے توانائی کے شعبے کے فروغ کے لئے مزید 50 کروڑ ڈالر کی گرانٹ کی مظوری متوقع ہے۔

اُن کے الفاظ میں، ’ورلڈ بینک پاکستان کے انرجی سیکٹر اور معاشی استحکام کے لئے مجموعی طور پر دو ارب ڈالر گرانٹ جاری کر رہا ہے۔ لیکن، یہ اس کی معاشی کارکردگی پر منحصر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بینک نے موجودہ حکومت کی معاشی کارکردگی پر اطمنان کا اظہار کیا ہے۔ یہ ہمارے لئے اہم ہے۔‘

توقع ہے کہ توانائی کے شعبے میں نجی اداروں کی مدد کے لئے، 50 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط آئندہ ہفتے جاری کردی جائے گی۔ اس سلسلے میں بینک کے بورڈ کا اجلاس اگلے ہفتے منعقد ہوگا۔

XS
SM
MD
LG