رسائی کے لنکس

برما کی جمہوریت پسند راہنما آنگ ساں سوچی نے اپنے ملک کے سیاست دانوں اور کاروباری افراد پر زور دیاہے کہ وہ ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کریں۔ بنکاک میں مشرقی ایشیا کے لیے عالمی اقتصادی فورم میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برما میں کی جانے والی اصلاحات کے بارے میں بہت زیادہ غیر محتاط خوش فہمی پائی جاتی ہے۔

آنگ ساں سوچی نے فورم کو بتایا کہ برما میں اقتصادی اصلاحات پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کی جارہی ہے جب کہ سیاسی شعبے میں کچھ زیادہ نہیں کیا جارہا۔ ان کا کہناتھا کہ جب تک عدالتی نظام آزاد نہیں ہوگا اور قانون کو انصاف کے ساتھ استعمال میں نہیں لایا جائے گا ، اس وقت تک کوئی سرمایہ کاری محفوظ نہیں ہوگی۔

انہوں نے اپنی تقریر میں زور دیا کہ اس طرح کی سرمایہ کاری کی جائے جس سے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے۔

کئی برسوں تک خراب معیشت اور بے روزگاری کے باعث کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک چلی گئی جن میں سے تقریباً 20 لاکھ کارکن تھائی لینڈ میں ملازمتیں کررہے ہیں۔

آنگ ساں سوچی نے 24 برسوں کے بعد تھائی لینڈ میں اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے دوران برمی تارکین وطن اور پناہ گزینوں سے ملاقات ان کی اولین ترجیح تھی۔

آنگ ساں سوچی کے پارلیمنٹ میں آنے اور پھر بیرون ملک دورے پر جانے سے برما کی آواز کو اب زیادہ احترام کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے۔

XS
SM
MD
LG