رسائی کے لنکس

برما کی جمہوریت پسند راہنما آنگ ساں سوچی اپنے یورپی دورے میں اب برطانیہ پہنچ گئی ہیں جہاں وہ لگ بھگ پچیس سال بعد اپنے خاندان سے مل رہی ہیں۔

نوبیل انعام یافتہ راہنما جو منگل کو 67 سال کی ہوگئی ہیں، آکسفورڈ میں اپنے خاندان سے ملنے سے قبل لندن کے اسکول آف اکنامکس کے ایک اجلاس میں شرکت کریں گی۔

اس ہفتے کے آخر میں آنگ ساں سوچی لندن میں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ایوان بالا سے خطاب کریں گی۔یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو بہت ہی کم اعلیٰ ترین غیر ملکی شخصیات کو ملتا ہے۔

1988ء میں اپنے وطن لوٹنے سے قبل سوچی نے کئی برس تک برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی تھی اور اپنی بیمار ماں کی دیکھ بھال میں وقت گذارا تھا۔

اپنے وطن واپسی کے بعد وہ جمہوریت کی حمایت میں چلائی جانے والی تحریک کی ایک ممتاز راہنما بن گئیں اور وہاں انہوں نے اگلے دوعشروں کے دوران زیادہ تر وقت فوجی حکومت کے تحت قید میں گذارا۔

XS
SM
MD
LG