رسائی کے لنکس

گزشتہ سال سوچی نے کہا تھا کہ وہ امور حکومت چلائیں گی اور ان کا عہدہ "صدر سے بلند ہوگا۔"

میانمار میں جمہوریت نواز رہنما آن سان سوچی نے ملک کی آئندہ صدر نہ بننے پر اپنے حامیوں سے معذرت کی ہے۔

جمعرات کو میڈیا کو جاری کیے گئے ایک خط میں نوبل انعام یافتہ شخصیت نے "عوام کی امنگوں کو پورا نہ کرنے پر" معذرت کا اظہار کیا۔

ان کی طرف سے یہ خط ایسے وقت سامنے آیا جب کچھ ہی گھنٹوں کے بعد پارلیمان میں نئے سربراہ کے انتخاب کے لیے کارروائی شروع ہونے والی ہے۔

سوچی کا کہنا تھا کہ وہ پراعتماد ہیں اور لوگوں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ "پرامن طریقے سے مقصد کے حصول" کے لیے حمایت جاری رکھیں۔

ان کی جماعت 'نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی' نے نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں واضح برتری حاصل کی تھی۔ لیکن ملک کے آئین کی ایک شق کے ایسے افراد کسی طور بھی صدر منتخب نہیں ہو سکتے جنہوں نے کسی غیر ملکی سے شادی کی اور ان کے بچوں کے پاس غیر ملکی شہریت ہو۔ سوچی کے بیٹوں کے پاس غیر ملکی شہریت ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں این ایل ڈی کے ایک قانون ساز میو ٹیٹ نے کہا کہ "میں بہت افسردہ ہوں، وہ صدارت کے لیے بہترین ہیں، لیکن مجھے امید ہے ایک دن وہ صدر ضرور بنیں گی۔"

گزشتہ سال سوچی نے کہا تھا کہ وہ امور حکومت چلائیں گی اور ان کا عہدہ "صدر سے بلند ہوگا۔"

لیکن حالیہ ہفتوں میں فوج کے ساتھ بند کمرے میں ان کی ہونے والی بات چیت سے ایسی قیاس آرائیوں نے جنم لیا کہ فریقین ایک ایسے معاہدے تک پہنچے ہیں کہ جس میں آئین کی اس شق کو معطل کر دیا جائے گا جو سوچی کے صدر بننے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

لیکن اس خط کے بعد بظاہر ان قیاس آرائیوں نے دم توڑ دیا ہے۔

میانمار کی نئی حکومت یکم اپریل سے اقتدار سنبھالے گی۔

XS
SM
MD
LG