رسائی کے لنکس

سوات میں سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے انوکھی پیش کش

  • شمیم شاہد،محمداشتیاق

سوات میں سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے انوکھی پیش کش

سوات میں سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے انوکھی پیش کش

سوات ہوٹل اوننرز ایسوسی ایشن کے صدر زاہد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ہوٹل مالکان کی طرف سے سیاحوں کے لیےحالیہ اعلان کے بعد تقریباً200 افراد سوات پہنچے ہیں جو اُن کے بقول ایک حوصلہ افزاء بات ہے۔

سوات میں ہوٹلوں کے مالکان نے سیاحوں کو دوبارہ وادی کی طرف متوجہ کرنے کے لیے یکم جنوری سے دس روز کے لیے مفت رہائش مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سوات ہوٹل اوننرز ایسوسی ایشن کے صدر زاہد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ہوٹل مالکان کی طرف سے سیاحوں کے لیےحالیہ اعلان کے بعد تقریباً200 افراد سوات پہنچے ہیں جو اُن کے بقول ایک حوصلہ افزاء بات ہے۔

زاہد خان کے مطابق ہوٹل مالکان اپنے اس اقدام سے سیاحوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سوات میں حالات بالکل پرامن ہیں اور لوگ اپنے بچوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ بغیر کسی خوف و خطر کے وادی سوات کی سیر کو آسکتے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ سوات میں ہر جگہ سکیورٹی فورسز موجود ہیں اور رات دیر گئے تک کہیں بھی جایا جاسکتا ہے۔

پاکستان کا سوئیٹزرلینڈ کہلانے والی وادی سوات میں عام طور پر سیاحوں کی آمد کا سلسلہ موسم گرما کے اوائل میں مئی کے مہینے میں شروع ہوتا ہے اور ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ ملک کے دوسرے حصوں سے آنے والے سیاحوں کو دس روز کے لیے مفت رہائش مہیا کرنے کا مقصد لوگوں میں اس اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش ہے کہ اب یہ علاقہ دہشت گردی سے پاک ہو گیا ہے اور سوات کے باشعور عوام اُن کے استقبال کے لیے تیار ہیں۔

ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی وادی میں آمد سے مقامی آبادی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے کیوں کہ اس علاقے میں رہنے والے بیشتر لوگوں کا روزگار سیاحت سے جڑا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال اپریل کے اواخر میں جب مالاکنڈ ڈویژن بشمول سوات میں”راہ راست“ کے نام سے فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا تو زیادہ ترعلاقوں میں طالبان جنگجوؤں کا کنٹرول تھا۔ تاہم سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں سینکڑوں جنگجوؤں کو ہلاک جب کہ اتنی ہی تعداد میں عسکریت پسندوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے جن میں طالبان کے اعلی کمانڈر بھی شامل ہیں۔

علاقے میں کامیاب فوجی آپریشن کے باوجود سوات کے دورداز علاقوں میں اب بھی گاہے بگاہے سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں تاہم مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر علاقے پرامن ہیں۔

XS
SM
MD
LG