رسائی کے لنکس

امن ایوارڈ کی نامزدگی سوات میں طالبات کی حوصلہ افزائی کا سبب بنے گی


ملالہ یوسف زئی

ملالہ یوسف زئی

سوات میں طالبان کے اثر و رسوخ کے دور میں بھی ملالہ نے ناصرف اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ فرضی نام سے اپنی تحریروں کے ذریعے لوگوں کو سوات کے حالات سے بھی آگاہ رکھتی رہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ امن کے لیے بچوں کے بین الاقوامی ایوارڈ کے لیے اُن کی نامزدگی سے ناصرف مقامی طالبات کے حوصلے بلند ہوں گے بلکہ خطے کے بارے میں منفی تاثرات کو زائل کرنے میں مدد ملے گی۔

سوات میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف 2009ء میں فوجی آپریشن کے آغاز سے قبل شدت پسندوں کی غیر اعلانیہ حکومت نے وادی کے تقریباً تمام ہی لوگوں کو متاثر کیا لیکن سب سے زیادہ منفی اثرات طالبات پر پڑے جنھیں نا صرف تعلیم جاری رکھنے سے روک دیا گیا بلکہ اُن کے کئی اسکولوں کو دھماکا خیز مواد سے تباہ بھی کیا گیا۔

لیکن اس دوران بھی اپنا تعلیمی سفر جاری رکھنے والی ملالہ یوسف زئی اب آٹھویں جماعت کی طالبہ ہیں اور اُنھیں حال ہی میں بچوں کے بین الاقوامی امن ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ہالینڈ کی بین الاقوامی تنظیم ’کڈز رائٹس‘ کی طرف سے نامزد پانچ بچوں میں ملالہ واحد پاکستانی طالبہ ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ ’’میں اپنی نامزدگی کو خود اپنے آپ تک محدود نہیں سمجھتی میں اس کو پورے سوات کی طالبات کی نامزدگی سمجھتی ہوں۔ میں خود کو سوات اور سوات کی بچیوں کا ایک نمائندہ سمجھتی ہوں۔‘‘

سوات میں طالبان کے اثر و رسوخ کے دور میں بھی ملالہ نے ناصرف اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ فرضی نام سے اپنی تحریروں کے ذریعے لوگوں کو سوات کے حالات سے بھی آگاہ رکھتی رہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ امن کے لیے بچوں کے بین الاقوامی ایوارڈ کے لیے اُن کی نامزدگی سے ناصرف مقامی طالبات کے حوصلے بلند ہوں گے بلکہ خطے کے بارے میں منفی تاثرات کو زائل کرنے میں مدد ملے گی۔

’’سوات کو لوگ دہشت گردی کے نام سے جانتے تھے نا کہ اس کی خوبصورتی اور امن کے لحاظ سے لیکن اس (نامزدگی) سے پوری دنیا کو یہ تاثر ملے گا کہ سوات ایک پرامن علاقہ ہے اور یہاں کے رہنے والے بھی پرامن ہیں اور وہ دہشت گرد نہیں ہیں۔‘‘

ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی بھی سوات میں قیام امن کی کوشش میں پیش پیش رہے اور اب وہ سوات قومی جرگے کے ترجمان بھی ہیں ۔ اُنھوں نے بتایا کہ سوات میں شدت پسندی کے دور میں 403 اسکولوں کو نقصان پہنچا تھا اور جزوی طور پر متاثر ہونے والے تعلیمی اداروں میں دوبارہ درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے لیکن ان کے بقول مکمل طور پر تباہ ہونے والے بہت سے اسکولوں کی اب تک تعمیر نو نہیں ہو سکی ہے۔

عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب آپریشن کے بعد یکم اگست 2009ء کو سوات سمیت مالاکنڈ ڈویژن کے ملحقہ اضلاع میں لڑکے اور لڑکیوں کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا تھا۔

فوج اور حکومت پاکستان بین الاقوامی برادری کے تعاون سے سوات میں تعلیمی اداروں کی تعمیر نو بھی جاری رکھے ہوئے ہے جس میں طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے کبل میں خواتین کی ایک یونیورسٹی کی تعمیر بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG