رسائی کے لنکس

دہشت گردی سے متاثرہ مالاکنڈ ڈویژن بشمول وادی سوات میں امن عامہ کی صورت حال میں بتدریج بہتری کے باعث زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح عدالتی نظام بھی مقامی وکلاء کے بقول موثر انداز میں کام کر رہا ہے۔

سوات اور اس سے ملحقہ دو دیگر اضلاع میں حال ہی میں تین خواتین ججوں کی تقرری بھی کی گئی ہے جسے مقامی آبادی خاص طور پر وکلا برادری خوش آئند پیش رفت قرار دیتی ہے۔

سوات ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قوی خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں خواتین ججوں کی تعیناتی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مقدمات کی سماعت کے دوران مقامی خواتین کو عدالت میں پیش ہو کر اپنی گواہی قلمبند کرانے میں حوصلہ افزائی کرے گا جس سے مقدمات کے فیصلے اور بھی تیزی سے کیے جا سکیں گے۔

’’خاص طور پر خاندانی مقدمات میں خواتین کا بھی کردار ہوتا ہے اور خواتین ججوں کے سامنے انھیں شہادت دینے میں آسانی ہوتی ہے اور وہ کھل کر اپنے موقف پیش کر سکتی ہیں۔ مقامی معاشرے کے تمام لوگ اور وکلا برادری ضلعی سطح پر خواتین ججوں کی تعینات کو سراہتی ہے۔‘‘

تین سال قبل سوات اور ملحقہ اضلاع میں طالبان شدت پسندوں کے اثر و رسوخ میں غیر معمولی اضافے کے بعد جہاں مقامی انتظامیہ غیر موثر ہو کر رہ گئی تھی وہیں عدالتی نظام کو بھی اسلام کے منافی قرار دے کر غیر فعال بنا دیا گیا تھا۔

2009ء کے اوائل میں حکومت کی ہدایت پر ایک فوجی آپریشن کے ذریعے اس خطے سے طالبان کا صفایا کر دیا گیا البتہ لوگوں کے ایک دیرینہ مطالبے کو مانتے ہوئے صوبائی حکومت نے انصاف کی جلد فراہمی کے لیے ’نظام عدل‘ کے نام سے ایک نیا عدالتی نظام متعارف کرایا جو معمول کے عدالتی نظام اور شرعی قوانین کا مجموعہ کہلایا جا سکتا ہے۔

ان عدالتوں میں تعینات ہونے والے ججوں کے لیے شرعی قوانین پر عبور ہونا لازمی ہے اور حال ہی میں سوات اور دیگر اضلاع میں تعینات ہونے والی خواتین جج بھی یہ اہلیت رکھتی ہیں۔

سوات کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے صدر قوی خان کہتے ہیں کہ اس علاقے میں رائج نظام عدل کے تحت دیوانی مقدمات کا فیصلہ چھ مہینوں جب کہ فوج داری مقدمات کو چار ماہ میں نمٹا دیا جاتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ماضی میں سوات کے لوگوں کو انصاف کے حصول کے لیے پشاور جانا پڑتا تھا اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے سال ہا سال مقدمات کی پیروی کرنا ممکن نہیں تھا لیکن اب مقدمات کے جلد فیصلوں سے مقامی آبادی خاصی خوش ہے اور بظاہر عدالتی نظام پر اعتماد کے باعث وادی میں تشدد کے واقعات نا ہونے کے برابر ہیں

XS
SM
MD
LG