رسائی کے لنکس

سویڈن خودکش حملہ:برطانیہ میں گھر کی تلاشی


سویڈن خودکش حملہ:برطانیہ میں گھر کی تلاشی

سویڈن خودکش حملہ:برطانیہ میں گھر کی تلاشی

پیر کو پولیس نے لوٹن میں اس کو گھیرے میں لے لیا جہاں تیمور عبدل وہاب عبدالے اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہائش پذیر رہا تھا۔ پولیس نے نہ تو کسی کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی خطرناک مواد وہاں سے برآمد کیا ہے۔

برطانوی پولیس لندن کے شمال میں لوٹن شہر میں اس گھر کی لاشی لے رہی ہے جو خیال ہے کہ سویڈن میں حالیہ خودکش بمبار کے خاندان کا ہے۔

پیر کو پولیس نے لوٹن میں اس کو گھیرے میں لے لیا جہاں تیمور عبدل وہاب عبدالے اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہائش پذیر رہا تھا۔ پولیس نے نہ تو کسی کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی خطرناک مواد وہاں سے برآمد کیا ہے۔ البتہ پولیس نے ایک گاڑی کو قبضے میں لے لیا ہے۔

سویڈن کے ایک اعلیٰ عہدیدار ٹامس لینڈسٹرینڈ کا کہنا ہے کہ انہیں 98فی صد یقین ہے کہ ہفتے کو سٹاک ہوم میں کئے گئے دھماکے میں خود کش بمبار عبدالے تھا۔دھماکوں میں کوئی اور ہلاکت نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد اپنے جسم کے ساتھ باندھا ہوا تھا اور کچھ بیگ میں اٹھایا ہوا تھا۔

سیکیورٹی حکام کاخیال ہے کہ خود کش بمبار کا دھماکہ غلطی سے قبل از وقت ہوگیا اور اگر دونوں دھماکے ایک ساتھ ہوتے تو بہت زیادہ نقصان ہوتا۔ پہلے دھماکے میں استعمال کی گئی کار بھی عبدالے کے نام پر رجسٹر تھی۔

مشرق وسطی ٰ میں پیدا ہونے والا عبدالے 1992سے سویڈن کا شہری تھا اور کچھ سال تک برطانیہ میں بھی مقیم رہا تھا۔ذرائع ابلاغ کی کچھ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ وہ عراق میں پیدا ہوا تھا۔

برطانیہ میں سکونت کے دوران وہ لوٹن اسلامک سنٹر میں نماز کے لئے جاتا رہا اور اسلامک سنٹر کے سیکرٹری فراست لطیف کا کہنا ہے کہ سن2007میں انتہا پسند نظریات کی وجہ سے عبدالے پر پابندی لگا دی گئی۔ اس نے مقامی یونیورسٹی سے تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ لوٹن میں اس کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے عبدالے کو تقریباً ڈھائی سال پہلے دیکھا تھا۔

XS
SM
MD
LG