رسائی کے لنکس

دھماکے دہشت گرد کارروائی تھی:سویڈن کے وزیراعظم


دھماکے دہشت گرد کارروائی تھی:سویڈن کے وزیراعظم

دھماکے دہشت گرد کارروائی تھی:سویڈن کے وزیراعظم

سویڈن کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کو دارالحکومت سٹاک ہوم میں ہونے والے دو دھماکے دہشت گردی کی کارروائی تھے۔ شہر کے مصروف علاقے میں یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

سویڈن کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کو دارالحکومت سٹاک ہوم میں ہونے والے دو دھماکے دہشت گردی کی کارروائی تھے۔ شہر کے مصروف علاقے میں یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

سٹاک ہوم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے سویڈن کے وزیراعظم فریڈرک رینفیلٹ نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے حکام ان دھماکوں کو دہشت گردی کی کارروائی سمجھ کر اس بارے میں تفتیش کر رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق پہلا دھما کہ خریداری کے ایک مصروف مرکزمیں ایک کار میں ہوا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے ریسکوسروسز کے ایک ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ جس کار میں دھماکہ ہوا اس میں گیس سلنڈر بھی رکھے گئے تھے۔ عین اسی وقت اسی بازار میں کچھ فاصلے پر ایک اور دھماکہ ہوا۔ سویڈن کے ذرائع ابلاغ کے مطابق دوسرا دھماکہ ایک خود کش حملہ آور کی جانب سے تھا جس نے دھٕماکہ خیز مواد کے علاوہ کیل بھی جسم کے ساتھ باندھے ہوئے تھے۔

میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے دھماکے میں ہلاک ہونے والا شخص خود کش بمبار تھا تاہم پولیس نے ابھی تک تصدیق نہیں کی کہ آیا دوسرا خود کش دھماکہ تھا ۔ اگر یہ قیاس آرائی سچ ثابت ہوتی ہے تو یہ سویڈن میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا۔

وزیراعظم فریڈرک نے واقعہ کے بارے میں ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سویڈن ایک آزاد معاشرہ ہے جس میں لوگ مختلف پس منظر اور مذہبی عقائد سے تعلق رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق واقعہ سے قبل ایک ای میل سیکیورٹی پولیس کو بھجوائی گئی تھی جس میں توہین آمیز کارٹونوں اور افغانستان میں جنگ پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ سویڈن کی سیکیورٹی سروس کے ڈائریکٹر جنرل آندرے تھورن برگ نے کہا ہے کہ سیکیورٹی ماہرین ابھی تک تعین نہیں کر پائے کہ آیا اس ای میل کا دھماکوں سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اس پیغام میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز کارٹونوں اور افغانستان میں سویڈن کے پانچ سو فوجیوں کی موجودگی پر غصے کا اظہار کیا گیا ہے اور سویڈن کے شہریوں کو حملے کی دھمکی دی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG