رسائی کے لنکس

یہ مذاکرات حتمی معاہدے کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے مقرر کردہ 31 مارچ کی ڈیڈلائن سے چند روز پہلے شروع ہو رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت جمعرات کو سوئٹزلینڈ میں دوبارہ شروع ہو گی۔

یہ مذاکرات حتمی معاہدے کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے مقرر کردہ 31 مارچ کی ڈیڈلائن سے چند روز پہلے شروع ہو رہے ہیں۔

اس ہفتے چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف پر جوہری معاہدہ کرنے پر زور دیا ہے کیونکہ بقول ان کے "ایران کے جوہری مذاکرات طویل فاصلے کی دوڑ کے آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں"۔

چینی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق وانگ نے کہا کہ "معاہدے تک پہنچنا وقت ضرورت اور عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے، اور ایران سمیت تمام فریقین کے مشترکہ اور طویل المدت مفاد میں ہے۔"

ایران اور اس کے ساتھ مذاکرات کرنے والے ممالک جس میں امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی شامل ہیں جون کے اواخر تک ایک حتمی معاہدے پر تک پہنچنا چاہتے ہیں جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے عوض اس پر اقتصادی پابندیوں کو نرم کیا جا سکے گا۔

فریقین کے درمیان حالیہ مہینوں میں مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں تاہم ابھی یہ تفصیل طے ہونا باقی ہے کہ ایران کو کتنی تعداد میں سنٹری فیوجز رکھنے کی اجازت ہو گی اور کس رفتار سے اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے جس میں طبی مقاصد کے لیے تحقیقات اور توانائی پیدا کرنا شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG