رسائی کے لنکس

تصادم کا واقعہ 'گولڈن ٹیمپل' پر بھارتی فوج کی چڑھائی کے 30 سال مکمل ہونے پر جمعے کو منعقد کی جانے والی تقریب کے دوران پیش آیا۔

بھارت کے شہر امرتسر میں واقع سکھوں کے مذہبی مرکز 'گولڈ ٹیمپل' میں دو گروہوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک درجن افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

تصادم کا واقعہ 'گولڈن ٹیمپل' پر بھارتی فوج کی چڑھائی کے 30 سال مکمل ہونے پر جمعے کو منعقد کی جانے والی تقریب کے دوران پیش آیا۔

مقامی پولیس کے مطابق تصادم اس وقت شروع ہوا جب تقریب کے دوران 'ٹیمپل' کی انتظامیہ نے 'شرو مانی اکالی دل - امرتسر' نامی تنظیم کے صدر اور سابق رکنِ پارلیمان سمرنجیت سنگھ مان کو خطاب کرنے سے روک دیا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذکورہ تنظیم 'خالصتان' کے نام سے سکھوں کی آزاد ریاست کے قیام کی حامی ہے۔

خطاب سے روکنے پر سمرنجیت سنگھ مان کے حامیوں نے 'خالصتان' کے حق میں نعرے لگائے اور تلواروں اور لاٹھیوں سے ٹیمپل انتظامیہ کے عہدیداروں اور عملے پر حملہ کردیا۔

بعد ازاں 'ٹیمپل' کے محافظوں کی جوابی کارروائی پر سیاسی رہنما کے حامی پسپا ہوگئے۔ پولیس کے مطابق تصادم آدھا گھنٹہ جاری رہا جس میں ملوث ہونے کے الزام میں 19 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ 30 سال قبل 1984ء میں اس وقت کی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کے حکم پر بھارتی فوج نے 'خالصتان' کے قیام کی تحریک کو کچلنے اور سکھ علیحدگی پسندوں کی گرفتاری کے لیے 'گولڈن ٹیمپل' پر دھاوا بول دیا تھا۔

تین روز تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں کم از کم 400 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس کارروائی کے نتیجے میں سکھوں میں غم و غصہے کی لہر دوڑ گئی تھی اور چند ماہ بعد وزیرِاعظم اندرا گاندھی کے دو سکھ محافظوں نے انہیں گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

وزیرِاعظم کے قتل کے بعد بھارت میں سکھ مخالف فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔
XS
SM
MD
LG