رسائی کے لنکس

شام کے خلاف پابندیوں پر عمل درآمد


شام کے خلاف پابندیوں پر عمل درآمد

شام کے خلاف پابندیوں پر عمل درآمد

شام کے خلاف پابندیوں پر عمل درآمد سے متعلق عرب لیگ کی کمیٹی ملک کے مالدار اور بااختیار شخصیات پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ کمیٹی نے ملک کے رئیس ترین تاجر اور شام کے صدر بشار الاسد کے بھائی اور کابینہ کے اعلی وزراء سمیت شام کے ان 17 افراد کی فہرست جاری کی ہے جن پر عرب ریاستوں میں سفر کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں ۔
عہدے داروں نےکہا ہے کہ یہ فہرست اور دوسری سفارشات عرب لیگ کے ارکان کے سامنے پیش کی جائیں گی جو اتوار کے روز دوحہ میں ہونے والی کانفرنس میں شریک ہورہے ہیں ۔

عرب لیگ شام کی حکومت کو اپنے مخالف مظاہروں کی پکڑ دھکڑ میں نرمی برتنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس نے شام حکومت کی نئی پابندیوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شام کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

شام نے بدھ کے روز 912 قیدیوں کو یہ کہتے ہوئے رہا کیا تھا کہ ان کا شورش سے منسلک قتل کی وارداتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

بدھ کے روز ہی سر گرم کارکنوں نےکہا کہ شورش زدہ صوبےدرعا میں بدھ کو جب سیکیورٹی فورسز علاقے میں داخل ہوئیں تو جھڑپوں میں کم از کم 6 عام شہری اور شام کے 7 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
لندن میں قائم شام کے لیے انسانی حقوق کے ایک نگران گروپ کے سر براہ رامی عبدالرحمن نے وی او اے کو بتایا کہ قصبے داعل میں لڑائی چھڑ گئی اور عینی شاہدین نے فوجی گاڑیوں کو دھماکے سے اڑائے جانے کی آوازیں سنیں ہیں۔

تازہ ترین تشدد ایسے میں ہوا ہے جب شام کو نئی بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے ۔

ترکی نے بدھ کے روز دمشق کےساتھ اپنے تمام مالیاتی قرض کا لین دین معطل کرتے ہوئے حکومت کے اثاثے منجمد کر دیے۔

ترک وزیر اعظم احمد داؤد نے کہا ہے کہ اس اقدام میں شام کے مرکزی بنک کے ساتھ رابطوں کا انقطاع، ملک میں ہتھیاروں کی ترسیل پر پابندی اور اسٹریٹجک تعاون کے دو طرفہ معاہدوں کی معطلی شامل ہیں ۔

شا م نے پکڑ دھکڑ کی کارروائیوں کو عام شہریوں اور سیکیورٹی عملے پر مسلح دہشت گردوں کے حملوں کا ضروری جواب قرار دیتے ہوئے ، انہیں ختم کرنے سے انکار کر دیاہے ۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل شام کی صورتحال پر گفتگو کےلیے جمعے کو جنیوا میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر رہی ہے ۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شورش سے منسلک تشدد میں کم از کم 3500 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جن کی اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے۔

XS
SM
MD
LG