رسائی کے لنکس

شام: وسطیٰ قصبے راستن میں سرکاری فورسز داخل


شام: وسطیٰ قصبے راستن میں سرکاری فورسز داخل

شام: وسطیٰ قصبے راستن میں سرکاری فورسز داخل

بظاہر ایسا دکھائی دے رہاہے کہ شام کی فورسز وسطیٰ علاقے میں واقع قصبے راستن کا کنٹرول دوبارہ حاصل کررہی ہیں جہاں گذشتہ کچھ دنوں سے حکومت سے منحرف ہوکر حزب اختلاف کے ساتھ مل جانے والے فوجیوں اور سرکاری فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری تھی۔

ہفتے کے روز سرگرم کارکنوں نے بتایا کہ سرکاری دستے شہر کے اندر داخل ہوگئے ہیں اور انہوں نے منحرفین کی تلاش شروع کردی ہے۔

ایک اور خبر میں کہاگیا ہے کہ شام کے حزب اختلاف کے گروپ ، صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف اتحاد بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں ہفتے کے روز ترکی میں اجلاس کررہے ہیں۔

حزب اختلاف سےتعلق رکھنے والی شخصیات اور سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ حکومت مخالفین کو توقع ہے کہ وہ آئندہ چندر وز میں اتحاد کا تنظیمی ڈھانچہ بنانے میں کامیا ب ہوجائیں گے۔

مسٹر اسد کو ان دنوں بین الاقوامی برداری کی جانب سے حکومت کی پکڑ دھکڑ کی مہم پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

اقوام متحدہ کا کہناہے کہ حکومت کی کارروائیوں کے نتیجے میں مارچ سے اب تک ، جب یہ تحریک شروع ہوئی تھی ،کم ازکم 2700 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

لیکن شام کی حکومت زیادہ تر پرتشدد واقعات کا الزام مسلح دہشت گردوں پر عائد کرتی ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی ثنا کا کہناہے کہ ہفتے کے روز13 سیکیورٹی اہل کارو اور عام شہریوں کی تدفین کی گئی جو دہشت گرد گروپوں کے حملوں میں دمشق کے مضافات اور حمص کے علاقے میں ہلاک ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG