رسائی کے لنکس

شامی حکومت کی جانب سے آبادیوں سے فوجی انخلا کے اعلان کے ایک روز بعد شامی فوجی دستوں اور باغیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 11 شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

حزبِ اختلاف کے کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپیں بدھ کو وسطی شہر حمص کے ان علاقوں میں ہوئیں جو حزبِ اختلاف کا اہم گڑھ تصور کیے جاتے ہیں۔

کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی افواج نے ان علاقوں پر بمباری بھی کی ہے۔

حزبِ اختلاف کے سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ تشدد کے تازہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ صدر بشارا الاسد کی حکومت جنگ بندی کے اس منصوبے پر عمل درآمد میں سنجیدہ نہیں جو شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے تجویز کیا ہے۔

دریں اثنا الاسد حکومت کے اہم اتحادی روس نے ایک بار پھر عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ شامی حزبِ اختلاف کے جنگجووں کو اسلحہ فراہم نہ کیا جائے کیوں کہ اس سے، روسی حکام کے بقول، شام کا بحران مزید شدید ہوجائے گا۔

مغربی ممالک کی اکثریت شامی باغیوں کو مسلح کرنے کی مخالفت کر رہی ہے باوجودے کہ خطے کے دو اہم سنی ممالک، سعودی عرب اور قطر اس تجویز کے زبردست حامی ہیں۔

یاد رہے کہ الاسد حکومت نے گزشتہ ہفتے کوفی عنان کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے پر 10 اپریل تک عمل درآمد کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

لیکن شامی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کو کہا تھا کہ شامی حکومت نے ڈیڈلائن سے ایک ہفتہ قبل ہی بعض نسبتاً پرامن شہروں سے فوجیوں کا انخلا شروع کردیا ہے۔

مجوزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت شامی افواج کو جنگ بندی میں پہل کرتے ہوئے افواج کو شہروں اور قصبوں سے نکالنے کا پابند کیا گیا ہے جس کے بعد معاہدے کے تحت باغیوں کی جانب سے بھی پرتشدد کاروائیاں روک دی جائیں گی۔

XS
SM
MD
LG