رسائی کے لنکس

شام کی حزب اختلاف کی تنظیموں نے جمعے کو ملک کے کئی علاقوں میں تشدد کے واقعات رونما ہونے کی اطلاعات دی ہیں۔ یہ واقعات ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب اقوام متحدہ کی حمایت سے طے پانے والی فائربندی کو مؤثر ہونے میں چند دن باقی رہ گئے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظررکھنے والی ایک تنظیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دمشق کے مضافاتی علاقوں میں کئی مقامات پر شام کی فورسز نے باغی گروپوں پر حملے کیے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان لڑائیوں میں سرکاری فوج کے تین اہل کار ہلاک ہوئے ۔ ملک کے وسطی علاقے حمص سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

صدربشارالاسد کے مخالفین نے جمعے کو ملک کے مختلف حصوں میں حکومت کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شام کے لیے عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے سفارت کار بن کی مون نے بتایا تھاکہ شام کے شہر، قصبے اور دیہات جنگی علاقوں میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے صدر اسد پر زور دیا کہ وہ قائدانہ تدبر اور سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 اپریل تک تشدد کے خاتمے کا اپنا وعدہ پورا کریں ۔

مسٹر اسد نے اقوم متحدہ کے حمایت یافتہ امن منصوبے پر 25 مارچ کو اتفاق کیا تھا، لیکن جنیوا سے جاری ہونے والی ایک ویڈیو فوٹیج میں مسٹر کوفی عنان نے کہاہے کہ شام کی حکومت نے ایک سال سے جاری تشدد کے خاتمے کے لیے بہت معمولی پیش رفت کی ہے۔

شام کا کہناہے کہ تشدد کے زیادہ تر واقعات کے ذمہ دار دہشت گرد ہیں جنہیں عرب اور مغربی ممالک ہتھیار فراہم کررہے ہیں۔

شام میں بدامنی کے باعث جان بچا کر ہمسایہ ممالک میں بھاگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے اور ترک عہدے داروں نے کہاہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران شام سے 2800 پناہ گزین سرحد عبورکرکے ترکی میں داخل ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG