رسائی کے لنکس

شام: عرب لیگ کے مزید مبصرین کا انخلا


ایک شامی خاتون عرب لیگ کے ایک مبصر سے گفتگو کرتے ہوئے

ایک شامی خاتون عرب لیگ کے ایک مبصر سے گفتگو کرتے ہوئے

برطانیہ میں قائم ایک تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے ایک عہدیدار نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا ہے کہ شام میں موجود 11 مبصرین بطورِ احتجاج جلد ملک سے نکل جائیں گے

انسانی حقوق کی ایک شامی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے مخالفین کے خلاف پرتشدد کاروائیاں نہ روکے جانے پر عرب لیگ کے مزید کئی مبصرین بطورِ احتجاج شام سے واپس جارہے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے ایک عہدیدار مصعب عزاوی نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا ہے کہ شام میں موجود 11 مبصرین بطورِ احتجاج جلد ملک سے نکل جائیں گے۔

عزاوی کے مطابق مبصرین کے اس گروپ میں سے سات کا تعلق عراق، دو کا کویت اور دو کا متحدہ عرب امارات سے ہے اور وہ منگل کو شمال مغربی قصبے دیر الزور میں سرکاری افواج کی جانب سے حکومت مخالفین پر کی گئی فائرنگ کے عینی شاہد ہیں۔

تنظیم کے عہدیدارکا کہنا ہے کہ واقعہ میں 19 مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے۔

ہلاکتوں کے ان دعووٴں اور شام میں موجود عرب لیگ کے مبصرین کے ارادوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے کے آغاز پر ایک الجیرین مبصر انور مالک نے سب سے پہلے شامی حکومت کی کاروائیوں پر بطورِ احتجاج مبصر مشن کو ترک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے انور مالک نے بتایا تھا کہ ان کے ساتھ تین دیگر مبصر بھی مشن کا خیرباد کہہ رہے ہیں۔

مالک کا کہنا تھا کہ انہوں نے بذاتِ خود شامی عوام کے خلاف سرکاری فورسز کو جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے اور وسطی شہر حمص کے دورے کے دوران مبصرین کو دھوکا دیتے ہوئے دیکھا تھا۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے شام میں عرب لیگ کے مبصر مشن کو ایک مذاق بھی قرار دیا۔

تاہم 150 زائد مبصرین کے اس مشن کی قیادت کرنے والے ایک سابق سوڈانی فوجی جنرل نے انور مالک کے الزامات کو غیر حقیقی قرار دیا ہے۔

جمعرات کو جاری کیے گئے ایک بیان میں جنرل محمد احمد مصطفی الدابی نے کہا ہے کہ مالک حمص کے دورے کے دوران دیگر مبصرین کے ساتھ نہیں گئے تھے اور وہ چھ دن تک بیماری کا عذر کرکے اپنے ہوٹل کے کمرے میں ہی موجود رہے۔

بیان میں جنرل الدابی نے کہا ہے کہ الجزائری نژاد مبصر نے علاج کے لیے پیرس جانے کی اجازت طلب کی تھی لیکن بعد ازاں وہ اجازت ملنے کا انتظار کیے بغیر شام سے واپس چلے گئے۔

یاد رہے کہ عرب لیگ کے مبصرین نے 26 دسمبر کو شام میں اپنا مشن شروع کیا تھا جہاں وہ شہروں سے فوجیوں کے انخلا، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف پرتشدد کاروائیوں کی روک تھام سے متعلق شامی حکومت کی یقین دہانیوں کا جائزہ لینے کے لیے ملک کے مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں۔

تاہم، اقوامِ متحدہ اور امریکہ کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کے مبصر مشن کے آغاز کے بعد سے مظاہرین کے خلاف شامی فورسز کی ہلاکت خیز کاروائیوں میں شدت آگئی ہے۔

شامی حکومت مسلح دہشت گردوں کو حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیتی ہے جب کہ حکام نے حمص میں گزشتہ روز کیے گئے اس راکٹ حملے کی ذمہ داری بھی انہی عناصر پر عائد کی ہے جن میں ایک فرانسیسی صحافی سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

شام میں گزشتہ 10 ماہ سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران کسی مغربی صحافی کی یہ پہلی ہلاکت ہے۔

تاہم شامی حزبِ اختلاف کے مرکزی اتحاد 'سیرین نیشنل کونسل' نے اس حملے کی ذمہ داری حکومت پر عائد کی ہے۔ اتحاد نے الزام لگایا ہے کہ مغربی صحافی کی ہلاکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی حکومت نہ صرف ملک میں صحافیوں کی آزادانہ نقل و حرکت کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے بلکہ آزاد ذرائع ابلاغ کا گلا گھونٹنے کے لیے صحافیوں کے قتل میں بھی ملوث ہے۔

XS
SM
MD
LG