رسائی کے لنکس

شام: مزید 13 مظاہرین کی ہلاکت کی اطلاعات


شام: حکومت مخالف مظاہرہ

شام: حکومت مخالف مظاہرہ

حزبِ مخالف کے مطابق ملک کے کئی شہروں میں نمازِ جمعہ کے بعد جوں ہی عوام حکومت مخالف مظاہروں کے لیے سڑکوں پر آئے سرکاری فورسز نے ان پر فائرنگ کردی

شام میں حزبِ مخالف سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں نمازِ جمعہ کے بعد ہونے والی عوامی ریلیوں کے شرکاء پر سرکاری افواج کی فائرنگ سے کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

تاہم، سرکاری ٹیلی ویژن نے ان مظاہروں کے دوران کسی ہلاکت کی تردید کی ہے۔

حکومت مخالف جماعتوں کے اراکین نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ ہلاکتیں وسطی شہر حمص اور دارالحکومت دمشق کے نواح میں ہوئیں ۔ حزبِ مخالف کے مطابق ملک کے کئی شہروں میں نمازِ جمعہ کے بعد جوں ہی عوام حکومت مخالف مظاہروں کے لیے سڑکوں پر آئے سرکاری فورسز نے ان پر فائرنگ کردی۔

اطلاعات کے مطابق مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے شام کی حکومت نے 'عرب لیگ' کی جانب سے پیش کردہ اس منصوبے سے اتفاق کیا تھا جس میں شام میں جاری پرتشدد واقعات کی فوری روک تھام اور حکومت اور حزبِ مخالف کے درمیان دو ہفتوں کے اندر مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

منصوبے میں شامی حکومت سے سڑکوں پر تعینات افواج کو فوری واپس بلانے، مظاہرین پر تشدد سے باز رہنے اور احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے حراست میں لیے گئے تمام افراد کو رہا کرنے کا کہا گیا ہے۔

تاہم حزبِ مخالف کی جماعتوں کی جانب سے حکومت کی جانب سے قیامِ امن کی پیش کش پر تحفظات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ جمعرات کو بھی حکومت مخالف کارکنوں نے شامی افواج پر 12 مظاہرین کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

شام کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کےاتحاد 'سیرین نیشنل کونسل' کے رہنمائوں نے گزشتہ روز مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے سربراہ سے ملاقات کی تھی جس کے بعد کونسل کے ایک رکن سمیر النشر نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں شامی حکومت کے ساتھ ممکنہ بات چیت کے معاملے پر بات نہیں کی گئی۔

اس کے برعکس، ان کے بقول، کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر بشار الاسد اقتدار سے دستبردار ہوں اور پھر اس کے بعد اتحاد کو مذاکرات کی پیش کش کریں تاکہ ایک آمرانہ حکومت سے جمہوری طرزِ حکومت کی جانب پیش رفت ہوسکے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کےخلاف آٹھ ماہ سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران ہلاک ہونے

والےافراد کی تعداد تین ہزار سےتجاوز کرگئی ہے۔

شام کی حکومت بیشتر ہلاکتوں کی ذمہ داری مسلح گروہوں اور "دہشت گردوں" پر ڈالتی آئی ہے۔

شامی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے آئندہ چند روز کے دوران ہتھیار پھینکنے والوں کو عام معافی دینے کی پیش کش کی ہے۔ لیکن امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے جمعہ کو شام کے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ خود کو حکام کے حوالے نہ کریں۔

XS
SM
MD
LG