رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سرکشی کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3000سے تجاوز کر گئی ہے

حکومت مخالف احتجاجی مظاہرین کےخلاف جاری پُر تشدد کارروائی کےنتیجےمیں شام کی سلامتی افواج کے ہاتھوں کم از کم 13افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

تشدد کے یہ واقعات اتوار کو عید الاضحیٰ کے پہلے روز ہوئے اور صدر بشارالاسد کی حکومت کی طرف سے عرب لیگ کے امن معاہدے پر سمجھوتے کے کچھ ہی روز بعد واقع ہوئے ہیں، جِس میں حکومت نے سرکشی کے خلاف کریک ڈاؤن ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

اِس پُر تشدد کارروائی کےنتیجے میں، قطر کے وزیر اعظم نے اگلے ہفتے کے دِن ایک ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی ضرورت محسوس کی، تاکہ حکومتِ شام کی طرف سے اپنے عہد کی پابندی کرنے میں ناکامی کے معاملے پر غور کیا جاسکے۔

زیادہ تر ہلاکتیں شام کے مرکزی شہر حمص میں واقع ہوئیں۔ متواتر پانچویں دِن، جِس کےبارے میں حکومت مخالف سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اِس شہر کے خلاف جاری فوجی مہم کا ایک حصہ ہے، جسے مسٹر اسد کے خلاف آٹھ ماہ سے جاری بغاوت کے دوران اپوزیشن کا گڑھ سمجھا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سرکشی کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3000سے تجاوز کر گئی ہے۔

حکومتِ شام نے اِس بے چینی کا الزام ’دہشت گردوں‘ اور مسلح افراد پر عائد کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG