رسائی کے لنکس

شام نے کہاہے کہ ملک میں 7 مئی کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں نصف سے زیادہ اہل ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔ جب کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور ان کا کہناہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ حکومت اپنے مخالفین کے خلاف مہلک کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، انتخابات کو مستند قرار نہیں دیا جاسکتا۔

شام کی الیکشن کمیٹی کے چیئرمین خلف الزاہوی نے منگل کے روز کہا کہ ووٹ ڈالنے کی شرح 51 فی صد تک پہنچ گئی ہے جو کہ 50 لاکھ ووٹروں کے مساوی ہے۔

ملک میں الیکشن کی صورت حال پر نظر رکھنے کا کوئی آزاد ذریعہ موجود نہیں ہے اور حزب اختلاف کے کارکنوں کا کہناہے کہ قصبوں اور دیہاتوں میں بہت کم تعداد میں ووٹ ڈالے گئے جہاں سرکاری فورسز گذشتہ 14 مہینوں سے حکومت مخالفین کے خلاف پکڑدھکڑ کی کارروائیاں کررہی ہیں۔

انتخابی عہدے داروں نے شام کی 250 رکنی پارلیمنٹ کا الیکشن جیتنے والوں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے جس میں اکثریت صدر بشارالاسد کی بعث پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔ بعث پارٹی گذشتہ کئی عشروں سے برسراقتدار ہے۔

انتخاب جیتنے والوں میں 30 خواتین اور ایک ایسا امیدوار بھی شامل ہے جس کا کہناہے کہ اس نے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیاتھا۔

الیکشن کمشن نے اپنے اعلان میں یہ نہیں بتایا کہ کس پارٹی کو کتنے ووٹ ملے اور یہ کہ ان کا تعلق کس علاقے سے تھا۔

حالیہ انتخابات فروری کے ریفرنڈم کے بعد ہوئے ہیں جس میں آئینی اصلاحات کی منظوری دی گئی تھی۔ ان اصلاحات میں بعث پارٹی کے اتحاد سے مقابلے کے لیے نئی سیاسی پارٹیوں کی تشکیل کی اجازت دی گئی تھی۔

انتخابات میں کئی نئی سیاسی جماعتوں نے بھی حصہ لیا لیکن حزب مخالف کی جلاوطن تنظیم نے انہیں حکومت کی پیدوار قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

XS
SM
MD
LG