رسائی کے لنکس

شام: تشدد کے واقعات 83 افراد ہلاک


شام: تشدد کے واقعات 83 افراد ہلاک

شام: تشدد کے واقعات 83 افراد ہلاک

انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی سیکیورٹی فورسز کی حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف جاری کاروائیوں اور ملک میں پیش آنے والے تشدد کے دیگر واقعات میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 80 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں جو گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران شام میں کسی ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

لندن میں قائم تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے نمائندوں نے منگل کو 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق سرکاری افواج نے شامی صوبے درعا میں پیر کو 38 عام شہریوں اور مبینہ طور پر سرکاری فوج سے بغاوت کرنے والے 18 سابق فوجیوں کو قتل کیا۔

تنظیم کے مطابق پیر کو حما اور حمص میں بھی کئی افراد کو قتل کیا گیا جب کہ ان علاقوں کی سڑکوں سے کئی ایسی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں جن پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔

حقوقِ انسانی کی مذکورہ تنظیم کے مطابق سرکاری فوج سے بغاوت کرنے والے فوجیوں کی تنظیم 'سیرین فری آرمی' نے بتایا ہے کہ ان کے ارکان اور سرکاری افواج کے درمیان پیر کو ہونے والی جھڑپوں کے دوران کم از کم 34 سرکاری فوجی ہلاک ہوئے۔

ہلاکتوں کے ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں کیوں کہ شامی حکومت نے بیشتر غیر ملکی صحافیوں کی ملک میں آزادانہ نقل و حرکت پر قدغن لگارکھی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم شامی کارکنان کا کہنا ہے کہ حکومت مخالفین کے خلاف جاری سرکاری افواج کی کاروائیوں میں رواں ماہ اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ہلاکتیں وسطی شہر حمص میں ہوئی ہیں جو صدر بشار الاسد کے خلاف جاری تحریک کا مرکز رہا ہے۔

دریں اثنا شامی حزبِ مخالف کے اتحاد 'سیرین نیشنل کونسل' کے رہنمائوں نے منگل کو ماسکو میں روسی رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں۔

روسی خبر رساں ایجنسی 'انٹر فیکس' کے مطابق ملاقاتوں کے دوران شامی رہنماؤں نے روس پر زور دیا کہ وہ صدر الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرے۔

تاہم روس کی وزارتِ خارجہ نے شامی حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں سے کہاہے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرکے عرب لیگ کے تجویز کردہ امن منصوبے کا حصہ بنیں تاکہ بحران کے حل کے لیے شامی حکومت اور حزبِ مخالف کے رہنمائوں کے درمیان مذاکرات شروع کیے جاسکیں۔

XS
SM
MD
LG