رسائی کے لنکس

شامی صدر جلد امن منصوبے پر دستخط کریں گے: عرب عہدے دار


شامی صدر جلد امن منصوبے پر دستخط کریں گے: عرب عہدے دار

شامی صدر جلد امن منصوبے پر دستخط کریں گے: عرب عہدے دار

اعلیٰ عرب عہدے داروں نے اِس امید کا اظہار کیا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد فوری طور پر عرب لیگ کے امن منصوبے پر دستخط کردیں گے، جِس کا مقصدمخالفین کی نو ماہ سے جاری شورش کے خلاف کی جانے والی مہلک پُر تشدد کارروائی کو بند کرنا ہے۔

اتوار کے روز قطر کے وزیر اعظم شیخ حماد بن جسیم الثانی نے بتایا کہ اُنھیں اطلاع ملی ہے کہ مسٹر اسد منصوبے پر دستخط کرنے والے ہیں۔ اومان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی کا بھی کہنا ہے کہ وہ پُر امید ہیں کہ شام اگلے 24گھنٹوں کےا ندر اندر عرب منصوبے کو قبول کر لے گا۔

منصوبے میں شام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مبصرین کو ملک میں آنے کی اجازت دے گا ، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکےآیا مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے حملے روکنے کے حکومتی وعدے پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ مظاہرین مسٹر اسد کے 11برس طویل آمرانہ اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

عرب سمجھوتے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاسی اصلاحات لانے کی غرض سے حکومتِ شام اپوزیشن گروپوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے گی۔

ہفتے کے روز قطرکے وزیر اعظم نے بتایا کہ اگر بدھ تک شام سمجھوتے پر دستخط نہیں کرتا، تو عین ممکن ہے کہ عرب لیگ اپنا منصوبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے سامنے پیش کرے، ایسے میں جب 22رکنی عرب بلاک کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس قاہرہ میں ہونے والا ہے۔

شیخ حماد نے یہ بات دوحہ میں تقریر کرتے ہوئے کہی، جہاں اُنھوں نے لیگ کی ایک کمیٹی کی صدارت کی، جِس نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ شام کے بحران پر کارروائی کی جائے۔

امن سمجھوتے کو قبول کرنے کے لیے شام پردباؤ ڈالنے کی غرض سے پچھلے ماہ عرب لیگ نے شام کی رکنیت معطل کردی تھی اور شام پرسفارتی اور معاشی تعزیرات عائد کی تھیں۔ شام نے اِس منصوبے میں تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجوزہ مبصر مشن کی تعیناتی ملک کے اقتدار ِٕ اعلیٰ کی خلاف ورزی ہوگی۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ اتوار کے روز شام کی سکیورٹی فورسز نے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے مراکز پر مزید پُر تشدد کارروائیاں کی ہیں، اوروسطی صوبہٴ حمص اور دوسرے علاقوں میں فائرنگ اور دیگر واقعات میں کم از کم 10شہری ہلاک ہوئے ۔ شام کے بارے میں قائم انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والے گروہ نے بتایا ہے کہ حمص کے قصیر قصبے میں ہونے والی ایک لڑائی کے دوران شام کی فوج سے بغاوت کرنے والوں نے چھ حکومتی سپاہیوں کو ہلاک کردیا اور تین بکتر بند گاڑیاں تباہ کردیں۔

شام کے خبر رسا ں ادارے صنعا نے کہا ہے کہ باغی فوجیوں کے ساتھ لڑائی میں حمص، ادلب اور دمشق صوبوں کے دیہی علاقوںمیں ہلاک ہونے والے سات سکیورٹی اہل کاروں کی اتوار کے روز تدفین ہوئی۔ شام کے حکام ملک میں ہونے والے تشدد کے واقعات کا ذمہ دار ’مسلح دہشت گرد گروپوں‘ کو قرار دیتے ہیں اور اِس بات سے انکار کرتے ہیں کہ احتجاج کرنے والوں کو خاموش کرانے کے لیے تشدد پر مبنی حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG