رسائی کے لنکس

ہزاروں مظاہرین نے شام کے شمالی شہر حلب کی شاہراہوں پر حکومت کے خلاف ایک مظاہرے میں شرکت کی۔ حکومت مخالف سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ یہ مظاہرہ صدر بشارالاسد کو اقتدار سے الگ کرنے کے لیے 15 ماہ قبل شروع ہونے والی عوامی تحریک کے بڑے ترین مظاہروں میں سے ایک ہے۔

سرگرم کارکنوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ یہ احتجاج حلب یونیورسٹی کے ہیروز کے منسوب کریں جنہوں نےجمعرات کو ایک مظاہرے کے دوران سرکاری فورسز کا مقابلہ کیاتھا۔

اقوام متحدہ کے عہدے داروں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ان حالیہ حملوں میں ممکنہ طورپر القاعدہ کا کوئی کردار ہو جس کے نتیجے میں مظاہرے اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں اور حکومت اور باغیوں کے درمیان فائر بندی کے کمزور معاہدے کو مزید نقصان پہنچاہے۔

شام میں امن کے قیام کی امیدوں کو بین الاقوامی سفارت کار کوفی عنان کی طرف سے مزید حمایت مل رہی ہے۔ ان کے ایک ترجمان نے کہاہے کہ اقوام متحدہ کے سابق سربراہ اس نتازع کا پرامن حل ڈھونڈے کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے دمشق آنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

لیکن ترجمان کا یہ بھی کہناہے کہ ابھی اس س سلسلے میں کوئی نظام الاوقات طے نہیں کیا گیا۔

کوفی عنان کی کوششوں سے مارچ میں فائر بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون نے کہاہے کہ ان کا خیال ہے کہ گذشتہ ہفتے دارالحکومت دمشق میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں، جن میں 55 افراد ہلاک ہوگئے تھے، القاعدہ کا ہاتھ ہے۔

ان کا کہناتھا کہ ان کارروائیوں میں ملوث ہونے سے بہت سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

جمعے کی نیوز کانفرنس میں اقوام متحدہ کے مبصرمشن کے سربراہ میجر جنرل رابرٹ موڈ نے کہا کہ القاعدہ کی موجودگی ایک پریشان کن پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں تعینات اقوام متحدہ کے 260 امن کار تنہا ہلاکت خیز تشدد نہیں روک سکتے۔

ایک اور خبر کے مطابق سرگرم کارکنوں نے کہاہے کہ سرکاری فوجوں نے حمص کے علاقے میں حزب اختلاف کے ایک مضبوط گڑھ رستن پرشدید گولہ باری کی جس سے تین افراد ہلاک ہوگئے۔

اقوام متحدہ کا کہناہے کہ گذشتہ سال مارچ میں شروع ہونے والی عوامی تحریک کے بعد سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG