رسائی کے لنکس

شام: تشدد کے واقعات میں کم از کم 20مظاہرین ہلاک


درعا میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرہ

درعا میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرہ

جمعے کی ہلاکتیں حمٕص کے علاقے میں واقع ہوئیں جہاں منحرفین کی تلاش کے لیے سکیورٹی فورسز شہرمیں چھاپے مار رہی ہیں، اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ بظاہر گھات لگا کر حملہ کرنے کے ایک واقعے میں شامی فوجی بھی ہلاک ہوئے

انسانی حقوق سےمتعلق سرگرم کارکنوں کا کہنا ہےکہ ملک بھرمیں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم 20افراد ہلاک ہوئے، ایسے میں جب حکومت پر’ انسانیت کے خلاف جرائم‘ کےنئے الزام لگ رہے ہیں۔

حقوقِ انسانی کےبارے میں شامی مبصرین نے کہا ہے کہ جمعے کی ہلاکتیں حمٕص کے علاقے میں ہوئیں۔ منحرفین کی تلاش کے لیے سکیورٹی فورسز شہرمیں چھاپے مار رہی ہیں اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ بظاہر گھات لگا کر حملہ کرنے کے ایک واقعے میں شامی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

ہلاکتوں کی تعداد کےبارے آزادانہ طور پرکوئی تصدیق نہیں ہوپائی، چونکہ شام زیادہ ترغیرملکی صحافیوں کو ملک میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

جمعے کے روز ہونے والے تشدد کے یہ واقعات ایسے وقت ہوئے ہیں جب ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ شام کے حکام انسانیت کے خلاف مبینہ اذیت اور غیر قانونی ہلاکتوں کے جرائم میں ملوث رہے ہوں۔

انسانی حقوق کے گروپوں اور حزب مخالف کے راہنماؤں نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ عرب لیگ میں شام کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کریں۔ 22رکنی عرب لیگ شام میں جاری بے چینی پر غور کے لیے ہفتے کو قاہرہ میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر رہی ہے۔

یہ اجلاس اُس سمجھوتے کے بعد ہو رہا ہے جسے عرب لیگ کی ثالثی میں طے کیا گیا تھا جِس میں اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف پُرتشدد کارروائی بند کرنے کو کہا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG