رسائی کے لنکس

شام: حزبِ اختلاف کا اقوامِ متحدہ سے کاروائی کا مطالبہ


شام: حزبِ اختلاف کا اقوامِ متحدہ سے کاروائی کا مطالبہ

شام: حزبِ اختلاف کا اقوامِ متحدہ سے کاروائی کا مطالبہ

حزبِ اختلاف کے اتحاد 'سیرین نیشنل کونسل'نے زاویہ، ادلب اور حمص کے علاقوں میں ہونےوالی حالیہ ہلاکتوں پہ غور کےلیے اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے

شام کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور 'عرب لیگ' پر زور دیا ہے کہ وہ شامی افواج کے ہاتھوں دو روز میں دو سو سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات پر کارروائی کریں۔

حزبِ اختلاف کے اتحاد 'سیرین نیشنل کونسل' نے بدھ کو جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں زاویہ، ادلب اور حمص کے علاقوں میں ہونے والی حالیہ ہلاکتوں پہ غور کے لیے اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اتحاد نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ حالیہ تشدد سے متاثر ہونے والے علاقوں کو 'محفوظ علاقے' قرار دے کر شامی دستوں کے وہاں سے انخلا کے لیے دباؤ ڈالے۔

حزبِ اختلاف کے اتحاد کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شام میں سرکاری افواج کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد کی تعداد ڈھائی سو ہوگئی ہے جو مارچ سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران اس دورانیے میں اب تک کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

لندن میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی انسانی حقوق کی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے ایک نمائندے نے منگل کو 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ سرکاری فوجی دستوں نے صوبہ اِدلب کے قصبے کفرووِد میں عام شہریوں اور سیاسی کارکنوں کو گھیر کر ان پر حملے کیے۔

تنظیم کے مطابق ایک دوسرے واقعے میں سرکاری فورسز نے ایک مقامی مسجد کے پیش امام کا سرتن سے جدا کردیا۔

تنظیم نے عینی شاہدین کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی دستوں نے صوبہ اِدلب میں محاصرہ کرکے سرکاری افواج سے بغاوت کرنے والے لگ بھگ سو فوجیوں کو قتل اور زخمی بھی کردیا۔

ملک کے مختلف علاقوں میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

مذکورہ تنظیم کے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں کیوں کہ شامی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں کی ملک میں آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

تشدد کے تازہ واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب علاقائی ممالک کی تنظیم 'عرب لیگ' سے وابستہ غیر ملکی مبصرین شام میں داخلے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ وہاں گزشتہ نو ماہ سے حکومت مخالفین کے خلاف جاری سرکاری فورسز کی کاروائیوں کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔

عرب لیگ کے حکام کا کہنا ہے کہ مبصرین کی تعیناتی کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک ابتدائی وفد جمعرات کو شام پہنچ جائے گا جس میں سیکیورٹی، قانونی اور انسانی حقوق کے امور کے ماہرین شامل ہوں گے۔

تنظیم کے مطابق شام میں تعینات مبصرین کی تعداد سینکڑوں میں ہوگی۔

XS
SM
MD
LG