رسائی کے لنکس

شام کے سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ شمالی صوبے حلب میں گھات لگا کر کیے جانے والے ایک حملے میں حکومت نواز ملیشیاء شبیحہ سے تعلق رکھنے والے 26 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق سے متعلق برطانیہ میں قائم تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے جمعے کے روز وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انہیں ایک ویڈیو ملی ہے جس میں سڑک کے کنارے خون میں لت پت نعشوں کا ڈھیر دکھائی دے رہاہے۔

بظاہر اس واقعہ کے بارے میں شام کے سرکاری میڈیا نے حلب سے باہر اسی علاقے کے متعلق جمعے کو بتایا کہ مسلح دہشت گردوں نے کم ازکم 25 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

تنظیم کا کہناہے کہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا ہلاک کیے جانے والے عام شہری تھے جیسا کہ شام کے سرکاری میڈیا کادعویٰ ہے یا وہ شبیحہ کے عسکریت پسند تھے ، جن پر حالیہ مہینوں میں عام شہریوں پر مہلک حملے کرنے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے جمعے کو حمص میں سرکاری فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاع دی ہے، جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ سینکڑوں شہری پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں اپنے لیے پناہ گاہیں ڈھونیں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

ریڈکراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے جمعرات کو حمص سے محصور شہریوں اور زخمی کو نکالنے کی کوشش کی تھی مگر گولہ باری کے باعث اس کی کوششیں بارآور ثابت نہ ہوسکیں۔

اقوام متحدہ کا کہناہے کہ شام میں اس وقت 15 لاکھ افراد کو انسانی بھلائی کی امداد کی اشد ضرورت ہے اور یہ کہ وہاں کی صورت حال مسلسل ابتر ہورہی ہے۔

XS
SM
MD
LG