رسائی کے لنکس

صدر اسد اپنا عہدہ چھوڑدیں: ترکی کا مطالبہ


صدر اسد اپنا عہدہ چھوڑدیں: ترکی کا مطالبہ

صدر اسد اپنا عہدہ چھوڑدیں: ترکی کا مطالبہ

ترک وزیر اعظم نے شام کے صدر بشارالاسد سے کہا ہے کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔

وزیر اعظم رجب طیبب اردوان نے منگل کے روز ٹیلی ویژن پر اپنی تقریر میں کہا کہ مسٹر اسد کو، اپنے عوام اور خطے کی بھلائی کے لیے ، مزید خون خرابے سے قبل، اقتدار سے الگ ہوجانا چاہیے۔

شام اور ترکی قریبی اتحادی رہے ہیں اور شام کے صدر کے لیے خطے کی اس اہم طاقت کی جانب سے اپنے عہدے سے علیحدگی کی یہ پہلی اپیل ہے۔ شام میں جاری حزب اختلاف کے مظاہرین کے خلاف پرتشدد سرکاری کارروائیوں پر انقرہ کی تنقید میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو اس وقت مزید دھچکا لگا جب پیر کے روزشام کے شمالی علاقے میں مسلح افراد نے بسوں کے ایک قافلے پر فائزنگ کردی جس کے ذریعے ترک حاجی ، سعودی عرب میں حج کی ادائیگی کے بعد وطن واپس جارہے تھے۔ اس حملے میں دو ترک باشندے زخمی ہوگئے تھے۔

پیر ہی کے روز اقوام متحدہ کے لیے شام کے سفیر نے قرارداد کے اس مسودے پر شدید نکتہ چینی کی جس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے شام میں گذشتہ آٹھ ماہ سے حزب اختلاف کے خلاف جاری پکڑدھکڑ کی مذمت کی گئی تھی۔

شام کے سفیر بشار جعفری نے کہا کہ جرمنی، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے تیار کیا جانے والا یہ مسودہ شام کے خلاف سیاسی، سفارتی اور میڈیا کی جنگ کے اعلان کے مترداف ہے۔

اقوام متحدہ کے لیے جرمنی کے سفیر ، جنہوں نے یہ مسودہ پیش کیا تھا ، کہناہے کہ اس مسودے کو60 ممالک کی حمایت حاصل ہے جن میں بحرین، اردن، مراکش، قطر اور سعودی عرب جیسے عرب خطے کے ممالک شامل ہیں،اور مسلم اکثریت ملک ترکی بھی مسودے کی حمایت کررہاہے۔

جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے اس مسودے پر منگل کو دیر گئے رائے شماری متوقع ہے۔

XS
SM
MD
LG