رسائی کے لنکس

یورپی یونین نے جمعے کے روز صدر بشارالاسد کی برطانوی نژاد اہلیہ اور ان کے خاندان کے کئی افراد کے اثاثے منجمد کرتے ہوئے یورپ میں ان کے داخلے پر پابندی لگادی ہے۔

یہ کارروائی جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی جانب سے شام میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت اور سخت موقف کے بعد عمل میں آئی ہے۔

انسانی حقوق کی کونسل نے شام میں گذشتہ سال کی بے چینی کے دوران حکومت کی جانب سے زیادتیوں کے مبینہ واقعات کی چھان بین کا دائرہ بڑھانے کی اپیل بھی کی ہے۔

کونسل نے تین کے مقابلے میں 41 ووٹوں کی اکثریت سے یورپی یونین کی اس قرارداد کی حمایت کی جسے امریکہ اور عرب ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔

جب کہ چین، روس اور کیوبا نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔

شام کی خاتون اول اسمہ الاسد ، صدر کی والدہ، بہن اور آٹھ دوسرے سرکاری عہدے داروں کے خلاف یورپی یونین کی پابندیاں ہفتے کے روز سے مؤثر ہوجائیں گی۔

اقوام متحدہ کا کہناہے کہ صدر بشارلاسد کی حکومت کے خلاف ایک سال شروع ہونے والی پرامن تحریک کے خلاف ، جو رفتہ رفتہ فوج سے منحرف ہوکر حکومت مخالفین میں شامل ہوجانے والے فوجیوں کی شمولیت سے ہتھیار بند ہوچکی ہے، حکومت کی پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG