رسائی کے لنکس

شام: حلب اور دمشق میں حکومت کی پُر تشدد کارروائیاں جاری

  • واشنگٹن

شام

شام

’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے بتایا ہے کہ شام کی فوج نے تقریباً 40 افراد کو، جن میں زیادہ تعداد شہریوں کی ہے، ہفتے کے روز حکومت مخالف شورش کے واقعات کے دوران ہلاک کیا ہے

سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ باغیوں کو کچلنے کی ایک اور کوشش میں شام کی فوج نے ٹینکوں اورجارحانہ مشن کے لیے استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے حلب اور دمشق کے دیہات پر نئی پُر تشدد کارروائیاں کی ہیں۔

حزب مخالف سےتعلق رکھنے والی ’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے بتایا ہے کہ تقریباً 40افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جن میں زیادہ تعداد شہریوں کی ہے، جنھیں ہفتے کے روز شام بھر میں حکومت مخالف شورش کے واقعات کے دوران ہلاک کیا گیا۔

صدر بشار الاسد نےشورش کا زیادہ تر باعث ’دہشت گردوں‘ کو قرار دیا ہے، جنھیں، اُن کے بقول، غیر ملکی حمایت حاصل ہے، جس کے نتیجے میں ملک گذشتہ 18ماہ سے سرکشی کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔ ہفتے کے روز سرکاری تحویل میں کام کرنے والی صنعا نیوز ایجنسی نے کہا کہ حلب میں مسلح افواج نے دہشت گردوں کی نامعلوم تعدادکو ہلاک کیا جب کہ مشین گنوں سے لیس سات موٹر گاڑیوں کو تباہ کیا۔

’وائس آف امریکہ‘ کے نامہ نگار، ایڈورڈ یرانیان شام میں رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا ہے کہ صورت حال مزید وحشیانہ اور دردناک ہوتی جارہی ہے۔ تاہم، وہ کہتے ہیں کہ چونکہ ملک کے زیادہ تر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے اورالیکٹرانک آلات کو چلانے کے لیے بجلی کم ہےیا پھر یکسر نہیں ہے، اِس لیے وڈیو یا اطلاعات کو ملک سے باہر بھیجنا دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔

مغربی ممالک نے مسٹر اسدسے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، شامی لیڈر کی ایران سے حمایت جاری ہے۔ ہفتے کے روز ایک ایرانی وفد دمشق میں شام کے قانون سازوں سے ملا اور ایران کی طرف سے حمایت کا یقین دیالا۔
)
ایسو سی ایٹڈ پریس نے شام میں ایران کے سفیر محمد رضا رؤف شیبانی کے حوالے سے بتایا ہےکہ شام میں کی جانے والی اصلاحات دشمنوں کی چالوں کےباعث بیکار ہو کر رہ گئی ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق، اقوام متحدہ کے مبصرین کے معطل دستے کے سربراہ، جنرل بباکر گائے ہفتے کو دمشق سے روانہ ہوئے۔

یہ مبصر ین اقوام متحدہ اور عرب لیگ کےسابق ایلچی، کوفی عنان کی طرف سے شام میں تعینات کیے گئے تھے، جن کا مقصد عنان کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی کےچھ نکاتی منصوبے کی نگرانی کرنا تھا جو کبھی عمل میں آئی ہی نہیں۔ مشن نے گذشتہ اتوار سے سرکاری طور پر اپنا کام بند کردیا ہے۔

اس کے برعکس اقوام متحدہ نے دمشق میں ایک سیاسی رابطے کا دفتر قائم کر لیا ہے، تاکہ مسٹر عنان کی جگہ کام کرنے والے الجزائر کے معروف سفارت کار لخدار براہیمی کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی جاسکے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG