رسائی کے لنکس

سیٹلائٹ کی تصاویر سے حلب میں فوجی نقل و حرکت کی تصدیق

  • واشنگٹن

شام

شام

امریکہ کی ایک بڑی سائنسی تنظیم نے کہاہے کہ سیٹلائٹ سے لی جانے والی حلب کی ہائی ریزولوشن تصاویر سے پتا چلا ہے کہ گذشتہ ماہ کی لڑائیوں کے دوران حلب کے شہری مضافات میں بڑے پیمانے پر فوجی گاڑیاں تعینات کی گئی تھیں۔

منگل کو جاری ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا ہے کہ شام کے صنعتی مرکز حلب کے محصور مضافاتی علاقوں میں فوج کارروائیاں کررہی ہے۔

امریکہ کی ایک بڑی سائنسی تنظیم نے کہاہے کہ سیٹلائٹ سے لی جانے والی حلب کی ہائی ریزولوشن تصاویر سے پتا چلا ہے کہ گذشتہ ماہ کی لڑائیوں کے دوران حلب کی شہری مضافات میں بڑے پیمانے پر فوجی گاڑیاں تعینات کی گئی تھیں۔

علاقے میں سرکاری فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں مسلسل ہورہیں اور ملک کے اس سب سے گنجان آباد شہر پر سرکاری فوجیں بمباری بھی کرچکی ہے۔

امریکن ایسوسی ایشن فار اینڈونسمنٹ آف سائنس نے منگل کو کہا کہ مذکورہ تصاویر 9 اور 23 اگست کو اتاری گئی تھیں جن میں شہر پر فوجی قبضے کی ایک کارروائی کے بعد بڑے پیمانے پر ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں اور ایک سوسے زیادہ تباہ شدہ عمارتوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

شام میں سینسر کی پابندیاں عائد ہیں ۔

لیکن یہ تصویریں عام شہریوں اور باغی گروپوں کی جانب سے حلب کے مضافاتی علاقوں میں سرکاری فورسز کے محاصرے کی تصدیق کرتی ہیں۔

امدادی تنظیم سیو دی چلڈرن کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس جنگ سے بچے بری طرح متاثر ہورہے ہیں ۔ تنظیم کا کہناہے کہ بچے نہ صرف جھڑپوں کی زد میں آرہے ہیں بلکہ اپنے خاندان کی ہلاکتیں ان کی نفسیات پر سنگین اثرات ڈال رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون نے جنرل اسمبلی میں کہاہے کہ دنیا کو لازمی طورپر شام میں تشدد روکنے اور دونوں فریقوں کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔
XS
SM
MD
LG