رسائی کے لنکس

شام کے سرکاری میڈیا نے کہاہے کہ جمعے کے روز دو بڑے دھماکوں نے دارالحکومت دمشق کو دہلا کر رکھ دیا اور ان کی زد میں آکر کم ازکم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ جب کہ حکومت اور باغیوں کے درمیان فائربندی پر عمل درآمد کے معاملے پر بین الاقوامی تشویش مسلسل بڑھ رہی ہے۔

سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ ایک دھماکہ اس مسجد کے نزدیک ہوا جہاں حکومت مخالف مظاہرین جمعے کی نماز کے بعد جمع ہوگئے تھے۔

حکومت نے اس دھماکہ پر دہشت گردوں کو مورود الزام ٹہراتے ہوئے کہاہے کہ یہ ایک خودکش دھماکہ تھا۔

اس سے پہلے صنعتی علاقے کے نزدیک بھی ایک دھماکہ ہوا۔

یہ دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب شام، امریکہ ا ور اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدے داروں اور یورپی یونین کی جانب سے شدید نکتہ چینی کی زد میں ہے۔ ان کا کہناہے کہ شام کی حکومت اس ماہ کے شروع میں بین الاقوامی کوششوں سے طے پانے والے فائزبندی کے معاہدے کی شرائط پوری کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

حکومت اور باغیوں کے درمیان تشدد کے حوالے سے حساس مقامات پر جمعے کے روز اقوام متحدہ کے امن کاروں کو تعینات کردیا گیاہے۔

لیکن اقوام متحدہ کا امن مشن مکمل ہونے کی رفتار سست ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نیراج سنگھ نے کہاہے کہ مزید امن کار شام کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔

شام کے لیے بین الاقوامی سفارت کار کوفی عنان کے ایک ترجمان نے جمعے کے روز کہاہے 15 ارکان پر مشتمل امن کاروں کا ایک اور دستہ پیر کو شام پہنچ رہاہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں 300 امن کار تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔

XS
SM
MD
LG