رسائی کے لنکس

باغیوں سے لڑائی، شامی فوج دمشق کے مضافات میں داخل


باغیوں سے لڑائی، شامی فوج دمشق کے مضافات میں داخل

باغیوں سے لڑائی، شامی فوج دمشق کے مضافات میں داخل

لڑائی اور ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، کیونکہ شام غیر ملکی صحافیوں کی ملک میں آزادانہ طور پر خدمات کی انجام دہی کی اجازت نہیں دیتا

شامی اپوزیشن کے سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ حکومتی فوج دمشق کے متعدد مضافات میں داخل ہوگئی ہے،جِس کا مقصد اُن باغیوں کو نکال باہر کرنا ہے جنھوں نے صدر بشار الاسد کے اقتدار کے محور کے قریب اپنی محفوظ پناہ گاہیں قائم کر لی ہیں۔

سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسد کے حامی فوجی ،جنھیں درجنوں ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کی حمایت حاصل ہے ، اتوار کے روز دارالحکومت کے مشرقی علاقوں میں کفار بتنا اور غوطاکے اضلاع میں باغیوں سے لڑتے رہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ لڑائی میں چار شہری اور ایک باغی ہلاک ہوا۔ سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایک اور شہری وسطی صوبہ حمص میں ہلاک ہوا۔

شام کے خبر رساں ادارے صنعا نے خبر دی ہے کہ اتوار ہی کو ایک اور واقع میں، اُس کے بقول، ’دہشت گردوں‘ نے دمشق کے سھنایا نامی مضافات میں فوج کی ایک بس کے قریب سڑک پر نصب ایک بم کو دھماکے سے اُڑا دیا، جس کے باعث چھ فوجی ہلاک اوردیگر چھ زخمی ہوئے۔

لڑائی اور ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، کیونکہ شام غیرملکی صحافیوں کی ملک میں آزادانہ طور پرخدمات کی انجام دہی کی اجازت نہیں دیتا۔

عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی نے اتوار کو بتایا کہ وہ روس اور چین کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ شام میں مہینوں سےجاری شورش کے خاتمے کے لیےعلاقائی بلاک کے منصوبے کے لیے حمایت حاصل کی جاسکے۔

العربی نے یہ بات نیو یارک روانہ ہونے سے قبل قاہرہ میں اپنے خطاب میں کہی۔ وہ منگل کے روز باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنا منصوبہ پیش کریں گے۔

ہفتے کے روز سے عرب لیگ نےشام میں اپنے مبصرمشن کی سرگرمیاں معطل کردیں ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ دس ماہ سے جاری مخالفین کی بغاوت کے خلاف پُر تشدد کارروائی میں مزید اضافہ آیا ہے۔

العربی نےبتایا ہے کہ مبصرین اگلے اتوار تک دمشق میں رہیں گے، جب عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس منعقد ہوگا، جس میں ملک سےمبصرین مشن کو واپس بلانے یا جاری رکھنے کے بارے میں حتمی فیصلہ ہوگا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لواروف نے عرب لیگ کی تجویز پر نکتہ چینی کی ہے۔ اتوار کو اپنے بیان میں اُنھوں نے کہا کہ شام کے مبصر مشن بحران کے حل میں مدد دینے کا ایک کارآمد ذریعہ ہے۔

روس شامی صدر اسد کا ایک کلیدی فوجی اتحادی ہے اور وہ دیگر عرب حکومتوں اور مغربی طاقتوں کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کی مخالفت کرتا ہے، جِن کا مقصد حکومتِ شام کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے کارروائی کے سلسلے میں مدد کا حصول ہے۔

XS
SM
MD
LG