رسائی کے لنکس

ترکی مداخلت سے باز رہے، شام کا انتباہ


شام کی سرحد کے نزدیک موجود ترک فوجی اہلکار (فائل)

شام کی سرحد کے نزدیک موجود ترک فوجی اہلکار (فائل)

شام کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی کا موقف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی اور شام کے خلاف جارحیت ہے۔

شام نے ترکی پر "جارحیت" کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ترک فوج نے باغیوں سے لڑائی کی نیت سے سرحد پار کرنے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

یاد رہے کہ ترکی کی پارلیمان نے جمعرات کو ایک قرارداد منظور کی تھی جس کے تحت ترک حکومت کو شام میں سرگرم دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف سرحد پار کارروائی کا اختیار دے دیا گیا تھا۔

ترک پارلیمان نے شامی شدت پسندوں کے خلاف حملوں کے لیے ترکی کے فوجی اڈے بھی اتحادی ممالک کو پیش کرنے کی اجازت دیدی تھی۔

ترکی کے اس فیصلے پر جمعے کو اپنے ردِ عمل شام کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی کا موقف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی اور شام کے خلاف جارحیت ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارتِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کو ایک خط روانہ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ترکی نے جو حکمتِ عملی اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے اس کے تباہ کن نتائج سے وہ خود بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

شام کے نائب وزیرِ خارجہ فیصل مقداد کی جانب سے روانہ کیے جانے والے اس خط میں ترکی کی جانب سے شام کی حدود میں فوجی کارروائی کے امکان کو خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ایک خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

جنیوا میں قائم اقوامِ متحدہ کے اداروں کے لیے شام کے سفیر حسام الدین اعلیٰ نے 'رائٹرز' کےساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی ان کےملک میں مداخلت کرنا چاہتا ہے حالاں کہ وہ دولتِ اسلامیہ سمیت دیگر شدت پسند باغی تنظیموں کو وسائل فراہم کرتا رہا ہے۔

شامی سفیر نے ترک حکومت کی جانب سے شام کے شمالی علاقے پر 'نو فلائی زون' کے قیام کے مطالبے پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔

ترک حکومت کا کہنا ہے کہ 'نو فلائی زون' کے قیام سے علاقے میں پھنسے ان ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے میں مدد ملے گی جو دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کے باعث گھر بار چھوڑ کر سرحد پار ترکی میں پناہ لینا چاہتے ہیں۔

'رائٹرز' کے ساتھ گفتگو میں شامی سفیر نے الزام عائد کیا کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف فوجی کارروائی میں امریکہ کی مدد کرنے والے سعودی عرب اور قطر بھی ماضی میں شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے شدت پسند باغیوں کو مالی مدد فراہم کرتے رہے ہیں اور ماضی میں انہوں نے کبھی ان شدت پسندوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

سعودی عرب، قطر اور ترکی شامی حکومت کے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG